1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ڈرامہ تھراپی، نو عمر عراقی لڑکیوں کا حوصلہ بلند کرنے کا باعث

تیرہ سالہ حنین اُس وقت خوشی سے چہک اٹھی، جب بغداد کے ایک تھیٹرمیں موجود ہجوم نے اس کے لیے اور اس کے دوستوں کے لیے کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں۔

عراقی بچی حنین نے اپنی زندگی زیادہ تر یتیم خانے میں گزاری ، جہاں وہ ہفتوں کمرے میں بند رہتی اور بغیر کسی مقصد کے صرف کھاتی اور ٹیلی وژن ہی دیکھتی رہتی تھی۔ جب وہ ان کاموں سے تھک جاتی تو سو جاتی۔ تاہم اب وہ اس قید تنہائی آزاد ہو چکی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے حنین نے کہا، 'اب میں بہت خوش ہوں، میں گاتی ہوں، ڈانس کرتی ہوں اور دوستوں کو لطیفے سناتی ہوں۔‘ اس نے مزید کہا، 'میں بدل گئی ہوں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوگیا ہے کیا تم پاگل ہوگئی ہو۔‘

دراصل حنین اور ایسی ہی دیگر بچیوں میں ایسی مثبت تبدیلی کا باعث بنا، رویا فاؤنڈیشن کا ایک پراجیکٹ۔ عراق میں سرگرم اس فاؤنڈیشن نے ڈارمہ تھراپی کے ذریعے وہاں مختلف صدموں سے دوچار بچیوں کی تربیت کا کام شروع کیا ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد ہے کہ شورش زدہ ملک عراق میں بالخصوص بچیوں کی تکالیف اور دکھوں کو بھلانے اور ان میں ایک نئی زندگی کی امید روشن کی جائے۔ رویا فاؤنڈیشن مختلف اسٹیج ڈراموں کی مدد سے بچوں کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کرتی ہے تاکہ وہ تلخ یادوں کو بھول کر اپنی معمول کی زندگی پر توجہ مرکوز کر سکیں۔

عراق میں اس پراجیکٹ کو کامیاب بنانے کے لیے کتھارسس نامی لبنانی غیر سرکاری امدادی ادارے نے چھ افراد کو تربیت فراہم کی۔ بیروت میں قائم اس ادارے کی ڈائریکٹر زینہ ڈاکاشا لبنان میں قیدیوں اور مہاجروں کے لیے کام کرنے والے افراد کو تربیت فراہم کرنے میں شہرت رکھتی ہیں۔ کتھارسس نے باسم الطیب کو بھی تربیت فراہم کی، جنہوں نے بعد ازاں بغداد میں واقع دارالاظہور نامی ایک یتیم خانے سے کچھ نو عمر لڑکیوں کا انتخاب کیا اور ایک ڈرامہ تخلیق کیا۔ انہوں نے اپنے ایک ڈرامے میں انہی مسائل کو موضوع بنایا، جو ان بچیوں کو درپیش تھے۔ باسم الطیب نے ڈرامہ تھراپی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ڈرامے میں کام کرنے کے نتیجے میں تمام بچیوں میں ایک خود اعتمادی آئی ۔ ڈرامے کا مرکزی خیال تھا، ’ ہمیں بھی جینے کا حق ہے، ہمیں تحفظ چاہیےاور ہمارے بھی خواب ہیں‘۔

اس اسٹیج ڈرامے میں بچپن کے مصائب، کم عمری کی شادی اور سماجی عدم مساوات کے موضوعات انتہائی ہلکے پھلکے انداز میں پیش کیے گئے۔ اس ڈرامے میں مزاح اور لطیف انداز میں انتہائی تلخ حقائق کو بیان کیا گیا۔ دارالاظہور نامی یتیم خانے کی پرنسپل ایمان حسون نے اس ڈرامے میں کام کرنے والی لڑکیوں کی کارکردگی پر فخرکا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’' اکثر مرد یہاں سے کسی لڑکی کو گود لینے کی خواہش لے کر آتے ہیں۔ لیکن میں انہیں ہمیشہ انکار کر دیتی ہوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان کو نوکرانیوں کے طور پر ساری زندگی غلا م نہ بنا دیا جائے یا ان کو جسم فروشی کی لیے مجبور نہ کردیا جائے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا ’ مجھے امید ہے کہ اس ڈرامہ تھراپی سے جو طاقت ان بچیوں کو ملی ہے اس کی وجہ سے اب یہ خود اپنی حفاظت کر سکتی ہے اور معاشرے میں اپنے لیے جگہ بھی بنا سکتی ہیں۔‘

Irak Flüchtlinge Jesiden 11. August

عراق میں شورش کی وجہ سے بچے بھی متاثر ہو ریے ہیں

عراق میں کئی دہائیوں سے جاری آمریت، اقتصادی پابندیوں، غیرملکی عکسری مداخلت اور سول تنازعات کی وجہ سے وہاں کے لوگ بہت متاثر ہوئے ہیں۔ عراق میں یہ تشدد اب بھی کار بم دھماکوں کی شکل میں موجود ہے۔ ہر جگہ پر قتل عام کی تصاویر اور موت کا ڈر نظر آتا ہے اور اسی افراتفری میں چوروں، بھتہ خوروں اور اسمگلروں کا کاروبار بھی چمک اٹھا ہے۔

ایک عراقی جرمن آرٹسٹ فرات الجمیل نے کے بقول ’عراقی معاشرہ صرف مردوں کے لیے ہے، عورتوں کے لیے نہیں اور یہ لڑکیاں تو خاص طور پر کمزور ہیں۔‘ تیرہ سالہ رقیہ جس نے اس ڈرامے میں دلہن کا کردار ادا کیا تھا، اس وقت رو پڑی جب سب نے کھڑے ہوکر اس کے لیے تالیاں بجائیں۔ رقیہ نے کہا کہ’ میں ہمیشہ سے ایک اداکارہ بننا چاہتی تھی لیکن میں یہاں بہت اداس تھی۔ کوئی میرے ساتھ گھومنا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔‘