1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ڈبے میں بند سُوپ کے نقصانات، نئی تحقیق

امریکی ماہرین کی ایک نئی ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ مسلسل کئی دنوں تک دھاتی ڈبے یا ٹِن میں بند سُوپ پینے والے افراد میں بسفینول اے نامی نقصان دہ کیمیائی مادے کی شرح بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔

default

یہ تحقیق امریکہ کی مشہور زمانہ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی طرف سے کی گئی۔ اس کے نتائج امریکی میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے کے تازہ ترین شمارے میں شائع ہوئے ہیں۔ واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اس ریسرچ سے محققین کو پتہ یہ چلا کہ ایسے لوگ جنہوں نے مسلسل پانچ روز تک tinned soup پیا، ان کے پیشاب میں bisphenol A نامی کیمیائی مادے کی شرح تازہ سُوپ پینے والے افراد کے مقابلے میں 12 گنا یا 1200 فیصد تک زیادہ ہو گئی۔

ماہرین کے بقول یہ ریسرچ اپنی نوعیت کی ایسی پہلی تحقیق ہے جس میں ڈبوں میں بند خوراک یا canned food کے استعمال سے انسانی جسم میں BPA کی سطح میں تبدیلی کو ناپنے کی کوشش کی گئی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے اسکول آف پبلک ہیلتھ کے Epidemiology ڈیپارٹمنٹ کی پی ایچ ڈی کی ایک طالبہ جینی کاروائل نے بتایا کہ انسانی جسم میں BPA مادوں کے بارے میں کافی عرصے سے تحقیق کی جاتی ہے۔

Bildergalerie Atomwaffen 66 Jahre Hiroshima USA Schutzraum

انہوں نے کہا، ’’یہ بات تو ہمیں کافی عرصے سے پتہ تھی کہ ایسے مشروبات پینے سے، جو پلاسٹک کی سخت بوتلوں میں بند ہوں، انسانی جسم میں بی پی اے کی سطح میں اضافہ ہو جاتا ہے۔‘‘ تاہم Jenny Carwile نے یہ بھی کہا کہ اس بارے میں نئی تحقیق یہ اشارہ دیتی ہے کہ دھاتی ڈبوں یا ٹِن میں بند اشیائے خوراک کی وجہ سے انسانی جسم میں اس کیمیائی مادے میں اضافے کی شرح تشویش ناک حد تک زیادہ ہو جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ حقائق اس لیے زیادہ پریشان کن ہیں کہ ترقی یافتہ ملکوں میں ڈبوں میں بند اشیائے خوراک کے استعمال کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ جینی کاروائل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جو ریسرچ کی، اس میں بی پی اے کی سطح ناپنے کے لیے جسمانی وزن کی بجائے اس مادے کی پیشاب میں موجودگی کے تناسب کو معیار بنایا گیا۔

Luftdicht verpaktes Fleisch

Bisphenol A یا BPA ایک ایسا کیمیائی مادہ ہے جو اینڈوکرائن کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔ جانوروں پر کی گئی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ اگر جسمانی وزن کے تناسب سے کسی جاندار میں اس کی مقدار 50 مائیکرو گرام فی کلو گرام یا اس سے زیادہ ہو جائے تو متعلقہ جاندار کا افزائش نسل کا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

بی پی اے اشیائے خوراک کی پیکنگ کے لیے استعمال ہونے والے دھاتی ڈبوں کی اندرونی سطح کے علاوہ پلاسٹک کی بوتلوں کی اندرونی سطح پر بھی پایا جاتا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM