1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ڈا ونچی کا شاہکار کروڑوں ڈالر میں خریدنے والا سعودی ولی عہد

ایک امریکی جریدے کے مطابق ڈا ونچی کی پینٹنگ کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خریدا تھا۔ اس نیلامی میں انہوں نے ایک قابلٍ بھروسہ شخص کے ذریعے شرکت کی تھی۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق گزشتہ ماہ پندرہویں صدی کے تاریخ ساز اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی کے مصورانہ شاہکار کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے خریدا تھا۔ اس شاہکار پینٹنگ کی نیلامی 450 ملین ڈالر میں ہوئی تھی، جو ایک ریکارڈ ہے۔

اسلام کا چہرہ مسخ نہیں ہونے دیں گے، سعودی ولی عہد

ایران سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہوا، سعودی ولی عہد

مستقبل کے سعودی بادشاہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے

سعودی خواتین اسٹیڈیم میں داخل ہو سکیں گی

ابتدا میں خریداروں کے حوالے سے جو شکوک ظاہر کیے گئے تھے، اُن میں امریکی انفارمیشن ٹیکنالوجی ادارے مائیکروسافٹ کے مالک بل گیٹس کو فوقیت حاصل تھی۔ لیکن اس رپورٹ نے سب شکوک کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی حکومت میں شہزادہ محمد کے قریبی دوست احباب نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادے نے ایک اور شخص کے توسط سے نیلامی میں شرکت کی تھی۔ اس شخص کے نام پر چھائی ہوئی دھند کی چادر وال اسٹریٹ جرنل نے ہٹا دی ہے۔

نیلامی میں سعودی ولی عہد کی نمائندگی شاہی خاندان کے ایک انتہائی غیرمعروف شہزادہ بادیر بن عبداللہ بن محمد کر رہے تھے۔ ان کا تعلق بھی آل سعود سے ہے۔ اسی بادیر نے پینٹنگ کو خریدنے کی حتمی بولی دی تھی۔

Saudi-Arabien König Salman und Kronprinz Mohammed bin Salman (Reuters/F. Al Nasser)

سعودی شاہ سلمان اپنے بیٹے اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ہمراہ

اطالوی مصور لیونارڈو ڈا ونچی کی پینٹنگ کی نیلامی کو ریکارڈ ساز تصور کیا جاتا ہے۔ بدھ چھ دسمبر کو خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات میں قائم ہونے والے فرانسیسی میوزیم لُوور کی ابوظہبی شاخ میں اس کو آویزاں کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

ڈا ونچی کی پینٹنگ یسوع مسیح کی ہے اور اس کا نام انہوں نے ’سلواتر مُنڈی‘ یعنی دنیا کا نجات دہندہ تجویز کیا تھا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے یہ معلومات امریکی خفیہ اداروں اور دوسرے نامعلوم ذرائع  سے حاصل کر کے جاری کی ہیں۔

DW.COM