1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈاکٹر محمد یونس اپنے عہدے سے برطرف، گرامین بینک

کئی ماہ کے سیاسی دباؤ کے بعد بالآ خر گرامین بینک کے بانی ڈاکٹر محمد یونس کو ان کے عہدے سے بر طرف کر دیا گیا ہے۔

default

گرامین بینک کے چیئر مین مزمل حق نے بتایا ہے کہ محمد یونس کو گرامین بینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

غریب کاروباری ہنر مند افراد کو چھوٹے قرضے جاری کرنے والے گرامین بینک کی نائب مینیجنگ ڈائریکٹر نورجہاں بیگم نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ محمد یونس کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق نوٹیفیکشن جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔

Medal of Freedom Barack Obama Muhammad Yunus

ڈاکٹر محمد یونس میڈل آف فریڈم لیتے ہوئے

گرامین بینک کے حکام نے کہا ہے کہ محمد یونس کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور وہ قانونی طور پر اس عہدے پر مزید کام نہیں کر سکتے ہیں۔ محمد یونس کی عمر 70 برس سے ہے جبکہ بنگلہ دیش میں ریٹائرمنٹ کی عمر ساٹھ ہے۔

ڈاکٹر محمد یونس نے 1983ء میں گرامین بینک کی بنیاد رکھی تھی جبکہ 2000ء میں انہیں اس بینک کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ مائیکرو فائنانسنگ متعارف کروانے پر انہیں اور ان کے بینک کو سن دو ہزار چھ میں مشترکہ طور پر نوبیل انعام سے نوازا گیا تھا۔

گزشتہ برس نومبر سے ہی محمد یونس شدید دباؤ میں تھے کیونکہ ناورے میں بنائی گئی ایک دستاویزی فلم میں ڈاکٹر محمد یونس کے بینک پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے سو ملین ڈالر کی امددی رقم کسی دوسرے منصوبے کی مد میں ڈال تھی، جبکہ اس سلسلے میں ڈونرز کی طرف سے دی گئی ہدایات کو نظر انداز کر دیا گیا تھا۔ اس امدادی رقم میں ناروے کے ڈونرز نے بھی حصہ ڈالا تھا۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں رواں برس جنوری میں حکومت نے اس حوالے سےتحقیقات شروع کی تھیں۔ یہ تحقیقات ابھی تک جاری ہیں، جن کے نتائج مارچ کے اواخر تک متوقع ہیں۔

واضح رہے کہ اسی مبینہ بدعنوانی کے لیے ناروے حکومت نے بھی تحقیقات کروائی تھیں، جس کے نتائج کے مطابق ڈاکٹر محمد یونس اور ان کا بینک دونوں ہی بے قصور پائے گئے تھے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس

ملتے جلتے مندرجات