1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈاکٹر عافیہ کو 86 برس کی سزائے قید

امریکی وفاقی عدالت کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر یہ الزام ثابت ہو گیا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں قید کے دوران امریکی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

default

ڈاکٹر عافیہ صدیقی

جمعرات کو امریکی وفاقی عدالت کے جج رچرڈ بیرمان نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا، ’میں فیصلہ سناتا ہوں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86 سال کی مدت کے لئے قید رکھا جائے۔‘ نیوروسائنسدان ڈاکٹر صدیقی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے فروری میں افغانستان میں دوران قید امریکی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

کمرہ عدالت میں جیسے ہی ڈاکٹر صدیقی کو سزا سنائی گئی تو وہاں موجود ان کے ہمدردوں نے اس فیصلے کے خلاف نعرے لگائے تاہم اس وقت ڈاکٹرعافیہ نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کی سزا پر برہمی کا اظہار نہ کیا جائے اور جج سمیت تمام لوگوں کو معاف کر دیا جائے۔

Aafia Siddiqui Prozess Proteste Pakistan Flash-Galerie

پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ کی سزا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکلاء نے کہا ہے کہ وہ اس سزا کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ دفاعی اٹارنی چارلس سِوفٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس وقت سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اپیل دائر کی جائے کیونکہ اس کیس میں کئی غلطیاں ہیں، جو درست کی جا سکتی ہیں۔

تین بچوں کی ماں اڑتیس سالہ ڈاکٹرعافیہ پر یہ الزام ثابت ہوا ہے کہ انہوں نے افغان صوبے غزنی کے ایک تھانے میں دوران قید ایک افغان پولیس اہلکار سے بندوق چھین کر امریکی فوجیوں اور FBI کےاہلکاروں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔

عدالتی کارروائی کے دوران دفاعی وکیل نے عدالت میں جرح کرتے ہوئے کہا کہ اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے مطلوبہ ثبوت نہیں ہیں۔ اس موقع پر وکیل صفائی نے ڈاکٹر عافیہ کو ذہنی طور پر بیمار قرار دیا اور رحم کی اپیل بھی کی۔ دوسری طرف وکیل استغاثہ نے ڈاکٹر عافیہ کو دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا ہمدرد قرار دیتے ہوئے عمر قید کی درخواست کی۔

امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنانے پر پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق کراچی میں ان کی بہن فوزیہ صدیقی نے اس عدالتی فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور پھر دہرایا کہ ان کی بہن بے قصور ہے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکہ سے ہی تعلیم حاصل کی اور بعدازاں نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کے ایک رشتہ دار سے شادی کے بعد وطن واپس آ گئی تھیں۔ وہ سن 2003ء میں پرسرار طور پر لاپتہ ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں وہ سن 2008ء میں افغانستان سے گرفتار ہوئیں۔ افغان پولیس کے مطابق ان سے نو سو گرام سوڈیم سائیناڈ بھی برآمد ہوا تھا اور وہ امریکہ کے شہر نیویارک میں دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث تھیں۔

Aafia Siddiqui

وکیل صفائی نے اپنی موکلہ کو ذہنی بیمار قرار دیا

بتایا جاتا ہے کہ اٹھارہ جولائی کو اپنی گرفتاری کے صرف ایک دن بعد ہی انہوں نے ایک افغان پولیس اہلکار سے M4 رائفل چھین کر امریکی تفتیشی ٹیم کو نشانہ بنایا اور ’امریکہ مردہ باد‘ کے نعرے لگائے۔ اطلاعات کے مطابق اس دوران ڈاکٹر عافیہ کسی کو بھی زخمی نہ کر سکیں تاہم جوابی فائرنگ میں وہ خود زخمی ہو گئی تھیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM