1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی جج کے سامنے پیشی

پاکستان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان سے امریکہ منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان پر امریکی عدالت میں القاعدہ کے ساتھ تعلق کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

default

ڈاکٹر عافیہ پر دورانِ حراست امریکی فوجی افسران پر گولی چلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے

ڈاکٹر عافیہ کو سن دو ہزار تین میں پاکستانی حکّام نے کراچی سے گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا تھا اور امریکہ نے ان کو اب تک افغانستان میں نامعلوم مقام پر نظر بند رکھا۔

ڈاکٹر عافیہ سے متعلق مقدمے اور ان سے وابستہ ’مسٹری‘ کے بارے میں واشنگٹن میں ہمارے نمائندے انور اقبال کا کہنا ہے کہ امریکہ میں پاکستانی سفارت خانے کی درخواست پر امریکی حکّام نے ان کے لیے ایک کائونسلر رکھنے کی اجازت دے دی ہے تاہم مقدمہ شکوک و شبہات سے بھرا ہوا ہے۔ انور اقبال کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو گرفتار تو سن دوہزار تین میںکیا گیا تھا تاہم امریکی حکّام ان پر مقدمہ اس سال جولائی میں افغانستان میں پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر چلانا چاہتی ہے۔


دریں اثناء پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ کی بہن اور ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ڈاکٹر عافیہ کی حراست اور مقدمے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔