1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’’ڈاکٹر عافیہ صدیقی ’ذہنی بیمار‘ ہیں، سزا کم کریں‘‘

امریکہ میں وکلائے صفائی نے کہا ہے کہ افغانستان میں امریکی ایجنٹوں اور فوجی افسروں کو قتل کرنے کی کوشش میں قصور وار ٹھہرائی گئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو عمر قید کی بجائے 12 سال کے لئے جیل بھیجا جائے کیونکہ وہ ’ذہنی بیمار‘ ہے۔

default

ڈاکٹر عافیہ صدیقی

امریکہ ہی میں تربیت یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اِس سال فروری میں مین ہیٹن کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں اِس بات کے لئے قصور وار قرار دیا گیا تھا کہ اُس نے جولائی سن 2008ء میں، جب وہ ایک افغان پولیس اسٹیشن پر زیرِ حراست تھی، دو امریکی تفتیشی اہلکاروں کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔

بُدھ اٹھائیس جولائی کو نیویارک کی اِسی عدالت میں ڈاکٹر صدیقی کے وکلاء نے اب یہ درخواست داخل کی ہے کہ اُن کی مؤکلہ نے ’ذہنی طور پر بیمار‘ ہونے کی وجہ سے اِس جرم کا ارتکاب کیا تھا، اِس لئے اُسے عمر قید کی سزا نہ دی جائے۔

Aafia Siddiqui Prozess Proteste Pakistan

عافیہ صدیقی کو قصور وار ٹھہرائے جانے کے خلاف پاکستان بھر میں مظاہرے کئے گئے

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اگست میں سزا سنائے جانے کا امکان ہے تاہم توقع یہ کی جا رہی ہے کہ سزا کا فیصلہ کہیں ستمبر میں یا اُس سے بھی زیادہ تاخیر سے سنایا جائے گا۔

37 سالہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان کے شہر کراچی سے ہے جبکہ اُس نے اعلیٰ تعلیم امریکہ کی ممتاز ترین یونیورسٹیوں میں سے ایک میساچُوسِٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے حاصل کی تھی۔

سن 2004ء میں اُس کا نام اُن افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، جن کے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ روابط ہو سکتے ہیں۔ اُس کی گرفتاری جولائی سن 2008ء میں افغانستان میں عمل میں آئی تھی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس