1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈاکٹر عاصم حسین کیس: وسیم اختر سمیت چار سیاسی رہنما گرفتار

سابق وفاقی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف دہشت گردوں کے علاج کے مقدمے نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے۔ پولیس نے وسیم اختر، ایم کیو ایم کے رہنما رؤف صدیقی اور منحرف لیڈر انیس قائم خانی کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا ہے۔

ان سیاسی رہنماؤں کو جیل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نے درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ دہشت گردوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کرنے کے مقدمے میں ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اخیر، سلیم شہزاد، رؤف صدیقی منحرف رہنما انیس قائم خانی اور پیپلز پارٹی کے رہنما قادر پٹیل نامزد ملزمان ہیں جبکہ اسی مقدمہ میں پاسبان کے رہمنا عثمان معظم بھی درخواست ضمانت مسترد ہونے کے باعث جیل میں ہیں۔

مذکورہ افراد نے سندھ ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کرنے کے بعد توثیق کے لئے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کر رکھا تھا۔

وسیم اختر، رؤف صدیقی اور انیس قائم خانی ضمانت کی توثیق کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے موقع پر انسداد دہشت گردی کی عدالت پہنچے تھے جبکہ عبدالقادر پٹیل تاخیر سے عدالت پہنچنے کی بنیاد پر کمرہ عدالت میں داخل نہ ہوسکے اور باہر سے ہی گھر واپس لوٹ گئے تھے۔

انسداد دہشت گردی عدالت کی جج خالدہ یاسین نے چاروں ملزمان کی درخواستیں مسترد کردیں، جس کے بعد تفتیشی افسر ڈی ایس پی الطاف حسین نے تینوں ملزمان کو باہر جانے سے روک دیا ۔

عدالت نے تینوں ملزمان کو تین اگست تک کے لئے جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر انہیں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی قادر پٹیل کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے۔

درخواست مسترد ہونے کے بعد وسیم اختر نے احاطہ عدالت میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ روز ہی اس درخوست کی سماعت کے لئے لندن سے واپس آئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جج نے فیصلہ سنانے سے قبل سماعت کے دوران یہ بات کہی ہے کہ مجبوراﹰ ڈاکٹر عاصم کی جوائنٹ انٹیروگیشن رپورٹ کو منظور کرنا پڑ رہا ہے اور یہ کہ عدالتوں سے بندوق کی نوک پر فیصلے لئے جارہے ہیں۔

سماعت کے لئے انیس قائم خانی کے ہمراہ مصطفٰی کمال اور ڈاکٹر صغیر احمد بھی عدالت آئے تھے جبکہ خبر عام ہوتے ہی ایم کیو ایم کے کئی رہنما اور کارکن بھی عدالت پہنچ گئے تھے۔

دوسری جانب قادر پٹیل نے ڈوئچے ویلے سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ جب میں عدالت پہنچا تو گیٹ بند تھے اور مجھے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی لہذا میں گھر لوٹ آیا۔ میں سیاسی کارکن ہوں اور تمام مقدمات کا سامنا کروں گا۔ جب مجھے اطلاع موصول ہوئی کہ عدالت نے میرے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور پولیس میری گرفتاری کے لئے چھاپے مار رہی ہے تو میں نے خود تھانے جاکر گرفتاری دے دی۔‘‘

گرفتاری کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ جب رینجرز کا خط موصول ہونے پر لندن سے واپس آسکتا ہوں تو عدالت سے فرار ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی اور رکن قومی اسمبلی کنور نوید جمیل نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آج کی گرفتاریوں کو کراچی میں جاری آپریشن کا تسلسل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آپریشن میں ایم کیو ایم کے ایک سو تیس کارکن لاپتہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مقدمہ ابتدا سے ہی متنازعہ ہے۔ ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری کے تین ماہ بعد رینجرز کی جانب سے یہ مقدمہ درج کروایا گیا تھا جبکہ پولیس تفتیشی رپورٹ میں ڈاکٹر عاصم کو بے گناہ قرار دے چکی ہے، جو سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان پہلے تنازعہ کی وجہ بنی تھی۔

آج بھی سندھ حکومت اور رینجرز کے درمیان اختیارات کے لئے جھگڑا جاری ہے، سندھ حکومت رینجرز کو کراچی میں صرف دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کے تدارک تک محدود رکھنا چاہتی ہے جبکہ رینجرز کا موقف ہے کہ کراچی سے بھاگ کر جرائم پیشہ افراد اندرون سندھ میں روپوش ہو جاتے ہیں لہذا اندرون سندھ میں بھی کارروائی ضروری ہے۔