1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈاکٹرعافیہ کی وطن واپسی کی کوششیں جاری رہیں گی، وزیراعظم گیلانی

پاکستان نے امریکی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86 برس سزا سنائے جانے کے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نےکہا کہ حکومت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے کوششیں ترک نہیں کرے گی۔

default

پاکستان میں دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے ایک سوال پر ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر باراک اوباما ڈاکٹرعافیہ کی سزا معاف کر سکتے ہیں یا کم از کم امریکہ کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت وہ اپنی سزا کا حصہ پاکستان میں گزاریں۔

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا کہ حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کئے ہیں اور اب بھی قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ سے ان کی وطن واپسی کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

Aafia Siddiqui Prozess Proteste Pakistan USA

ڈاکٹر عافیہ کے سزا سنائے جانے کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئیں

وزیراعظم نے کہا کہ وہ امریکہ پر یہ واضح کر چکے ہیں کہ بے شک واشنگٹن پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کمی کر دے لیکن اگر ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو رہا کر دیا جائے تو پاکستان میں اس کی ساکھ میں بہتری آ سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ''اس سے زیادہ واضح یا دو ٹوک موقف کیا ہو سکتا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ دونوں سے اس بارے میں متفقہ قرارداد پاس کی گئی ہے اور اپوزیشن سمیت تمام سیاسی جماعتیں اور پوری قوم اس بات پر متفق ہےکہ قوم کی بیٹی کو واپس لایا جائے''

ادھرڈاکٹرعافیہ صدیقی کو سزا سنائے جانے کے بعد پاکستان میں ان کے اہل خانہ اورعوامی سطح پر شدید رعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ جمعے کے روز ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔ دارالحکومت اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں منعقد کی گئیں، جن میں مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو سزا سنائے جانے پر امریکی حکام کے ساتھ ساتھ پاکستانی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان احتجاجی مظاہروں میں شریک خواتین نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹرعافیہ صدیقی کی سزا پر نظر ثانی کی جائے۔''ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی مجرم نہیں بلکہ ملزم ہے اورایک ملزم کو سزا دینا انسانیت کے منافی ہے۔ اقتدار میں بیٹھے لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ خدا را ڈاکٹرعافیہ کو واپس لانے میں اپنا کردار ادا کریں''

اسلام آباد میں جاری قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس کے بعد مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ اگر حکومت پاکستان ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے کیس میں دلچسپی لیتی تو انہیں اس نوعیت کی سزا نہ سنائی جاتی۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے خاطر خواہ کوششیں نہیں کیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ نے کہا کہ '' نہ تو پاکستان سے کوئی وفد گیا جوکہ امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کرتا یا اس بارے میں مذاکرات کرتا انہیں سمجھاتا۔

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gilani

قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے امریکہ سے ان کی وطن واپسی کی کوششیں جاری رکھی جائیں،وزیراعظم گیلانی

امریکہ کی اس پورے خطے میں خصوصاً پاکستان میں بہت زیادہ دلچسپیاں ہیں آج اگر حکومت پاکستان صحیح معنوں میں چار جملے بھی بول دیتی تو میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹرصدیقی سپیشل طیارے میں وی آئی پی انداز میں پاکستان پہنچا دی جاتی۔''

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی سزا پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اتحادی ممالک کے درمیان فاصلے بڑھ سکتے ہیں۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ حکومت نے امریکہ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس کی پیروی کیلئے وکیل کو 20 لاکھ امریکی ڈالر فیس ادا کی ہے۔ تاہم ڈاکٹر عافیہ کی والدہ اور ہمشیرہ فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے محض زبانی دعوے کئے جاتے رہے لیکن عملاً کچھ نہیں کیا گیا۔

رپورٹ : شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس