1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈان کے صحافی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر، صحافی برادری ناراض

صحافی سرل المائڈا نے کہا ہے کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔ سرل المائڈا نے 6 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ پاکستان کی سول اور ملڑی قیادت کے مابین دہشت گرد عناصر سے نمٹنے پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پاکستان کی صحافی برادری ڈان کے صحافی سرل المائڈا کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔  شاہ زیب خان زادہ، طلعت حسین، نجم سیٹھی اور دیگر صحافیوں نے سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

صحافی اور کالم نگار زاہد حسین نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا،’’ سرل پر بیرون ملک سفر پر پابندی اس لیے عائد کرنا کیوں کہ وہ اپنا کام کر رہا ہے ، انتہائی شرمناک فعل ہے۔‘‘

نجم سیٹھی کا کہنا ہے، ’’سول اور ملڑی ایسٹیبلشمنٹ نے سرل المائڈا کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی میڈیا کو ایک بہت بڑی خبر دے دی ہے، میڈیا کو سرل المائڈا اور ڈان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے۔‘‘

صحافی ارشد شریف نے ٹوئٹ میں تحریر کیا، ’’سرل المائڈا سول اور فوجی قیادت کے درمیان چوہے بلی کے کھیل کا نشانہ بن گئے ہیں۔‘‘ 

سرل نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا،’’ مجھے بتایا گیا ہے اور اس بات کے ثبوت دکھائے گئے ہیں کہ میرا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔‘‘

سرل المائڈا نے اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ گزشتہ پیر کو ’آل پارٹیز کانفرنس‘  کے روز پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری نے وزیر اعظم ہاؤس میں اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کو پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کے بارے میں آگاہ کیا ہے، اس اجلاس میں آئی ایس آئی کے سربراہ کو آگاہ کیا کہ جب بھی کلعدم دہشت گرد تنظیموں اور دہشت گردوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے ادارے کاروائی کرتے ہیں تو سکیورٹی ایسٹیبلشمنٹ گرفتار شدگان کو چھڑوا لیتی ہے۔

رپورٹ میں لکھا گیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر کو بتایا گیا ہے کہ جب تک پاکستان جیش محمد، لشکر طیبہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی نہیں کرے گا تب تک پاکستان بین الاقوامی تنہائی کا شکار رہے گا۔ اس کےعلاوہ پاکستان کے وزیر اعظم نے پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات اور راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں ممبئی حملوں کے کیس کو دوبارہ شروع کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔ 

پاکستان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک سے زائد بیانات میں اس خبر کی تردید کی گئی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری حالیہ بیان میں لکھا گیا ہے کہ ،’’ ڈان اخبار کی کہانی من گھڑت ہے، یہ کہانی عالمی سطح پر قومی معاملات کے حوالے سے رپورٹنگ کے قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہے، ڈان کی رپورٹ نے غلط معلومات کے ساتھ ملک کے مفادات کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘‘

ڈان اخبار نے وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے جواب میں اپنے اخبار میں وضاحت شائع کی ہے۔ ڈان کی جانب سے لکھا گیا ہے،’’جس کہانی کو وزیر اعظم کی جانب سے مسترد کیا گیا ہے اس کہانی میں بیان کی گئی معلومات کی اشاعت سے قبل چھان بین کی گئی تھی، اور ان معلومات کی ایک سے زیادہ ’ذرائع‘ نے تصدیق کی تھی۔‘‘ ڈان نے لکھا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور اداروں کو چاہیے کہ وہ محض ایک پیغام پہنچانے والے کو نشانہ بنانا چھوڑ دیں اور پاکستان کے سب سے معتبر اخبار کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ اس کہانی کو اس لیے بھی اہم اور حساس قرار دیا جا رہا ہے کیوں کہ 18 ستمبر کو لائن آف کنٹرول کے قریبی علاقے اڑی میں بھارتی فوجی اڈے پر مبینہ عسکریت پسندوں کی جانب سے حملے میں 19 بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے الزام عائد کیا تھا کہ ان حملہ آوروں کا تعلق پاکستان میں قائم ایک شدت پسند تنظیم سے تھا اور یہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کرکے بھارت میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی۔

سرل المائڈا نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا،’’میں آج رات بہت اداس ہوں۔ یہ میری زندگی، میرا ملک ہے۔ کیا غلط ہو گیا۔‘‘