1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈارون تھیوری ترک نصاب سے خارج، ’ جہاد اور مقدس جنگ‘ شامل

ترکی میں اسکولوں کے بائیو لوجی کے نصاب سے انسانی ارتقا کی ڈارون تھیوری کو خارج کیا جا رہا ہے جبکہ ’ وطن سے محبت ‘ کے باب میں مذہبی کلاسوں میں ’جہاد‘ اور ’مقدس جنگ‘ جیسے موضوعات پڑھائے جائیں گے۔

ترکی نے اسکولوں کے نصاب میں شامل 170 مضامین کا ازسر نو جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس جائزے میں ہائی اسکولوں میں بایئولوجی کے مضمون میں انسانی ارتقا کے نظریے سے متعلق  تمام براہ راست حوالے خارج کیے جا رہے ہیں۔ ستمبر سن 2018 سے ترک نصاب میں لائی جانے والی ان تبدیلیوں پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح نصاب کو مذہبی تعلیمات کے تناظر میں ایردوآن حکومت کے قدامت پسندانہ رویے کے تحت تراش خراش کی جا رہی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں اور اتحادوں نے ان تبدیلیوں کے خلاف ترک حکومت سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے کیے ہیں کہ طلبا کو سائنسی اور سیکولر تعلیم دی جائے۔ ترک قانون سازوں نے بھی پارلیمان میں ان نئی لائی جانے والی تبدیلیوں کی مخالفت کی ہے۔

اس حوالے سے ترک وزیر تعلیم عصمت یلمز کا کہنا ہے کہ ارتقائی بایئولوجی کا مضمون اُن کی وزارت کی رائے میں ہائی اسکول کے طلبا کے لیے زیادہ مشکل ہے اور اسے یونیورسٹی کی سطح پر پڑھایا جائے گا۔

Türkei Demo gegen Bildungspolitik der AKP (Getty Images/AFP/Y. Akgul)

حزب اختلاف کی جماعتوں اور اتحادوں نے ان تبدیلیوں کے خلاف مظاہرے کیے ہیں

ترکی میں ایوولوشن یا ارتقا کا مضمون بعنوان ’ زندگی کے آغاز اور ارتقا ‘  بارہویں جماعت سے پڑھایا جاتا رہا ہے۔ اب اس باب کو’ جاندار اور ماحول‘ کے باب سے بدل دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دینی مضامین میں جہاد اور مقدس جنگ کے مضامین کو ’وطن کی محبت‘ کے باب میں شامل کیا جا رہا ہے۔

 علاوہ ازیں ترک جمہوریہ کے بانی مصطفی کمال اتاترک سے متعلق مواد کو بھی کم کر دیا گیا ہے۔ ترکی میں سیکولر خیالات کے حامل افراد اتاترک کو انتہائی عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اتاترک نے ریاست کو مذہب سے الگ  رکھا تھا تاہم صدر ایردوان کی جماعت نے اس تقسیم کو زیادہ مذہبی نقطہ نظر کے ساتھ چیلنج کر رکھا ہے۔

 اسکولوں میں طلبا کو ترک مخالف گروپوں کے بارے میں بھی تعلیم دی جائے گی۔ ان گروپوں میں کردستان ورکرز پارٹی یا پی کے کے، جہادی گروپ اسلامک اسٹیٹ اور امریکا میں مقیم مذہبی عالم فتح اللہ گولن کا نیٹ ورک شامل ہے۔

DW.COM