چیک جمہوریہ: روس نواز صدر کی انتخابات میں کامیابی | حالات حاضرہ | DW | 13.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چیک جمہوریہ: روس نواز صدر کی انتخابات میں کامیابی

یورپی ریاست چیک جمہوریہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں روس نواز موجودہ صدر میلو زیمن کو برتری حاصل ہے۔ زیمن نے ان انتخابات میں 39 فیصد کے قریب ووٹ حاصل کیے ہیں۔

default

میلو زیمن

چیک جمہوریہ میں جمعہ 12 جنوری اور ہفتہ 13 جنوری کو منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈالے گئے 99.13 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق موجودہ صدر میلو زیمن نے ڈالے گئے ووٹوں میں سے 38.75 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔

چیک جمہوریہ کے دفتر شماریات کے مطابق میلو زیمن کے قریب ترین حریف ژیری ڈراہوس ہیں جو 26.51 فیصد ووٹ حاصل کر سکے۔

فیصلے کے لیے انتخابات کا دوسرا مرحلہ

میلو زیمن برتری کے باوجود مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس باعث انہیں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کا سامنا ہو گا۔ چیک جمہوریہ کے آئین کے مطابق کامیاب ہونے والے صدارتی امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ اُسے ڈالے گئے کُل ووٹوں میں سے نصف یا اُس سے زائد ملیں۔

ابتدائی نتائج میں کامیابی کے بعد 73 سالہ میلو زیمن نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’میں ان تمام لوگوں دعوت دیتا ہوں جو مجھے ووٹ دینا چاہتے ہیں کہ وہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی پولنگ اسٹیشنوں پر آئیں اور اپنے ساتھ اپنے دوستوں، اپنے چاہنے والوں اور اپنے شریک حیات کو بھی ساتھ لائیں۔‘‘

Jiri Drahos

میلو زیمن کے قریب ترین حریف ژیری ڈراہوس ہیں جو 26.51 فیصد ووٹ حاصل کر سکے

زیمن کا اس موقع پر مزید کہنا تھا، ’’گزشتہ انتخابات (2013) میں، میں نے پہلے مرحلے میں 24 فیصد جبکہ دوسرے مرحلے میں 54 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس برس میں نے پہلے ہی مرحلے میں 40 فیصد ووٹ حاصل کر لیے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس موقع پر  ژیری ڈراہوس کو بھی دوسری پوزیشن حاصل کرنے پر مبارکباد دی۔

دوسرے مرحلے کے لیے صدارتی الیکشن چھبیس اور ستائیس جنوری کو ہوں گے۔