1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چیک انتخابات، دائیں بازو کی جماعتیں حکومت سازی کی کوششوں میں

چیک جمہوریہ میں حالیہ انتخابات میں کامیاب ہونے والی دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں حکومت سازی کے لئے ایک وسیع تر معاہدے پر متفق ہو گئی ہیں، تاہم اس مرحلے میں کافی سخت مذاکرات کی توقع کی جا رہی ہے۔

default

سوک ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ Petr Necas

اگرچہ ان پارلیمانی انتخابات میں بائیں بازو کی سوشلسٹ پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کئے، تاہم دائیں بازو کی اعتدال پسند تین جماعتوں کے اتحاد کے بعد سوشلسٹ پارٹی حکومت سازی کے لئے مطلوبہ اکثریت سے محروم ہوگئے۔

ان انتخابات میں ووٹرز نے دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو جو بھاری مینڈیٹ دیا ہے اس میں بجٹ خسارے کو کم کرنا بھی شامل ہے۔ نئی سیاسی جماعتوں کی کامیابی سے معلوم ہوتا ہے کہ چیک عوام نے سیاست سے بدعنوانی کے خاتمے کا اعلان کیا ہے۔

دائیں بازو کی سوک ڈیموکریٹک پارٹی اور دیگر اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ نئی حکومت بجٹ خسارے، صحت عامہ، پینشن ، قانون نافذ کرنے والے اداروں، تعلیم ،ماحولیات اور زراعت کے علاوہ دیگر شعبوں میں اصلاحات لاتے ہوئے ،بدعنوانی ختم کرے گی اورانصاف کا بول بالا کرے گی۔

ایک نئی سیاسی پارٹی پبلک افئیرز کے رہنما راڈِک جان نے سوک ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ Petr Necas سے ملاقات کے بعد کہا :’’ اگرچہ ہم مخلوط حکومت کا حصہ بننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں تاہم مجھے معلوم ہے کہ مستقبل میں کئی مشکل معاملات آئیں گے۔‘‘

پبلک افئیرز پارٹی نے ابھی یہ بھی بتانا ہے کہ کیا وہ Petr Necas کو نیا وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی دو اہم سیاسی پارٹیوں نے تاہم Petr Necas کو وزیراعظم نامزد کر دیا ہے۔

چیک جمہوریہ کی موجودہ مخلوط حکومت کو پارلیمان کے ایوان زیریں کی کل دو سو ممبران میں سے ایک سو اٹھارہ کی حمایت حاصل ہے۔ سن 1993ء میں معرض وجود میں آنے والے اس ملک میں پہلی مرتبہ کسی حکومت کو اتنے زیادہ ممبران کی حمایت حاصل ہوگی۔

Parlamentswahl in Tschechien 2010

چیک صدر Vaclav Klaus انتخانات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

دریں اثناء چیک صدر Vaclav Klaus نے کہا ہے موجودہ حالات میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ صرف دائیں بازو کے اعتدال پسند ہی کابینہ تشکیل دے سکتے ہیں، تاہم انہوں نےکہا کہ وہ حکومت سازی کے لئے سیاسی جماعتوں کو مناسب وقت دیں گے اور جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔

ایک اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں چیک صدر نے ان تحفظات کا اظہار بھی کیا کہ ان انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس مناسب تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے کیا وہ اس بھاری مینڈیٹ کو پورا کرسکیں گے یا نہیں۔ انہوں نے ان شکوک کا اظہار بھی کیا کہ کیا کامیابی حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے پاس حکومتی مشینری چلانے کے لئے تجربہ کار سیاستدان ہیں بھی یا نہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM