1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

چیکنگ کا خوف، نوجوان تارک وطن ٹرین سے کود کر ہلاک

جرمن پولیس کے مطابق نوجوان مصری تارک وطن نائٹ ٹرین میں سیٹوں کے درمیان چھپا ہوا تھا۔ پولیس نے جب اس سے شناختی دستاویزات طلب کیں تو اس نے چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دی جس کے باعث وہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق چلتی ہوئی ٹرین سے کودنے کے باعث ایک نوجوان تارک وطن جان کی بازی ہار گیا۔ یہ واقعہ آج جمعہ گیارہ مارچ کے روز علی الصبح آسٹریا اور جرمنی کی سرحد کے قریب پیش آیا۔

رضاکارانہ طور پر واپس جاؤ، بائیس سو یورو ملیں گے

یورپ میں پناہ کے متلاشیوں میں اڑتالیس ہزار پاکستانی بھی

رپورٹوں کے مطابق سترہ سالہ نوجوان تارک وطن مصری شہری تھا۔ مذکورہ تارک وطن آسٹریا سے جرمنی آنے والی نائٹ ٹرین میں سوار تھا۔

نوجوان حکام کی نظروں سے بچنے کے لیے ٹرین کی سیٹوں کے نیچے چھپا ہوا تھا۔ نشاندہی پر پولیس اس کے پاس پہنچی اور اس سے شناختی دستاویزات طلب کیں تو اس نے آسٹریا سے جاری کردہ دستاویزات مہیا کیں۔

نوجوان نے آسٹریا میں سیاسی پناہ کی درخواست دے رکھی تھی۔ جرمن پولیس اہلکار اس کی شناختی دستاویزات کا جائزہ لے رہے تھے اس دوران نوجوان بھاگ کر ٹرین کے دوسرے کمپارٹمنٹ میں چلا گیا۔

ٹرین میں سوار دو امریکی خواتین کے مطابق، جو اس واقعے کے عینی شاہد بھی ہیں، نوجوان بھاگتا ہوا دوسرے کمپارٹمنٹ میں آیا اور ٹرین کی کھڑکی کھول کر چلتی ہوئی ٹرین سے چھلانگ لگا دی۔

واقعے کے فوراﹰ بعد ٹرینوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی اور ٹرین ٹریک سے نوجوان لاش پولیس نے تحویل میں لے لی۔

جرمنی کی وفاقی پولیس کا کہنا ہے کہ نوجوان نے کچھ ہفتے قبل بھی ٹرین کے ذریعے جرمنی میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے اسے گرفتار کر کے واپس آسٹریا بھیج دیا تھا۔

جرمنی جنگوں اور غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر یورپ کی جانب ہجرت کرنے والے تارکین وطن کی پسندیدہ منزل ہے۔ گزشتہ برس گیارہ لاکھ سے زائد تارکین وطن نے جرمنی میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواستیں دی تھیں۔

DW.COM