1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین یورپی ملکوں کی مدد کیوں کرنا چاہتا ہے

ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور یورپ اقتصادی طور پر مشکلات کا شکار ہیں، چین ایک نجات دہندہ کے طور پر سامنے آرہا ہے۔ چین امریکہ اور یورپ کے اقتصادی بحران میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہے۔

default

یہ بات گزشتہ روز چینی وزیر اعظم وین جیاباؤ نے اپنے شمال مشرقی ساحلی شہر دالیان میں عالمی اقتصادی فورم کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی جمہوریہ چین کے پاس دنیا کے سب سے بڑے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر ہیں اور وہ سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔

چین کے شمال مشرقی ساحلی شہر دالیان میں تمام سامعین کو تقریب کے اختتام تک وزیراعظم وین جیا باؤ کی تقریر کا انتظار کرنا پڑا۔ پھر انہوں نے اُسی موضوع پر بات کی، جس کا سبھی لوگ انتظار کر رہے تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ چین یورپ کے ہاتھ مضبوط کرے گا اور وہ وہاں اپنی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن وہ کسی بھی صورت میں یورپ کو بلینک چیک دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’’حکومتوں کو اپنی ذمہ داریاں سنجیدگی سے نبھانا ہوں گی اور انہیں پہلے اپنے معاملات درست کرنا ہوں گے۔‘‘

Wen Jiabao bei der Ansprache in Cambridge bei der er mit einem Schuh beworfen wurde 2.2.2009

وین جیا باؤ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کی اسے آزاد معیشت کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے یورپی یونین کے مؤقف میں تبدیلی آئے گی

چین یورپ کی کیسے اور کس سطح پر مدد کرے گا، یہ سوال ابھی جواب طلب ہے۔ ماضی میں چین نے یونان اور معاشی بحران زدہ ملک اسپین میں نہ صرف سرمایہ کاری کی تھی بلکہ حکومتی بانڈز بھی خریدے تھے۔ تاہم چین کی سرمایہ کاری اس سے کئی گنا کم تھی، جس کا اعلان کیا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق چین اس مرتبہ دس سے بارہ بلین یورو مالیت کے حکومتی بانڈز خرید سکتا ہے۔ لیکن چین یورپ کی مدد کیوں کرنا چاہتا ہے یہ بات بھی انتہائی واضح ہے۔

یورپی یونین چین کا انتہائی اہم تجارتی پارٹنر ہے اور بیجنگ حکومت اس طرح کے اپنے بڑے گاہکوں کے ساتھ مستحکم تعلقات میں گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ دوسری جانب چینی وزیراعظم نے یورپی حکومتوں سے اس کی مالیاتی حیثیت کو تسلیم کرنے کا بھی کہا ہے: ’’ یورپی یونین کے سربراہوں اور اہم یورپی ممالک کی حکومتوں کو چین کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کے بارے میں دلیری سے سوچنا چاہیے۔ مثال کے طور پر ان ملکوں کو چاہیے کی وہ چین کی آزاد معاشی حثیت کو تسلیم کریں۔‘‘

کئی برسوں سے چین برسلز میں مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ اسے ایک آزاد معیشت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔ ایک آزاد معیشت کا درجہ حاصل کرنا علامتی طور پر چین کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس طرح یورپی یونین چین کی سستی درآمدات پر اضافی محصولات نہیں لگا سکے گی۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل  نے اپنے حالیہ دورہ چین کے دوران واضح کیا تھا کہ چین کو فی الحال آزاد معیشت تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔

لیکن اس وقت چین کے پاس غیر ملکی زرمبادلہ کے بڑے ذخائر موجود ہیں، جس کی وجہ سے اس کی معاشی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وین جیا باؤ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کی اسے آزاد معیشت کے طور پر تسلیم کرنے کے حوالے سے یورپی یونین کے مؤقف میں تبدیلی آئے گی۔

رپورٹ: روتھ کِرشنر / امتیاز احمد

ادارت: افسر اعوان

DW.COM