1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین کے لیے معاشی ترقی برقرار رکھنا کتنا کٹھن؟

چینی پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے آغاز پر وزیر اعظم لی کیچیانگ نے کہا کہ چین کو اپنی اقتصادی شرح چھ اعشاریہ پانچ برقرار رکھنے کے لیے سخت کوششیں کرنا ہوں گی۔ انہوں نے آئندہ پانچ برسوں میں روزگار کے اضافے کا وعدہ بھی کیا۔

ہفتے کے روز چینی وزیر اعظم نے پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ ان صنعتوں کو بند کر دیا جانا چاہیے جو کہ ناکارہ ہو چکی ہیں۔

گو کہ چھ اعشاریہ پانچ کی شرح نمو بہت سے ممالک کے لیے ایک قابل رشک معاشی ہدف ہو سکتا ہے، تاہم دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت چین کے لیے یہ گزشتہ کئی برسوں کی کم زور ترین شرح ہے۔ چین کچھ عرصے سے اقتصادی منڈیوں میں غیر یقینی صورت حال، سست رو عالمی تجارت اور ماحولیاتی ضرر رسانی سے نبرد آزما ہے۔

ان ہی وجوہات کی بنیاد پر لی کیچیانگ کا کہنا تھا، ’’ہمارے ملک کی ترقی کو پہلے سے زیادہ خطرات اور مشکلات کا سامنا ہے۔ ہمیں ایک طویل جدوجہد کے لیے تیار رہنا ہوگا۔‘‘

چین کی کوشش ہے کہ رواں برس معاشی ترقی کی شرح چھ اعشاریہ پانچ اور سات فیصد کے درمیان رہے، بے روزگاری تین فیصد تک رہے، اور مالی سپلائی کا پھیلاؤ تیرہ فیصد کے قریب رہے۔ ان اہداف کا ذکر ان ڈرافٹ رپورٹوں میں موجود ہے جو کہ بارہ روز تک چینی پارلیمان میں زیر بحث رہیں گے۔

چین میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہش مند چاہتے ہیں کہ یہ کمیونسٹ ملک شرح ترقی میں اضافے کے لیے مالی اخراجات کو بھی بڑھائے۔

ماہر اقتصادیات یو یونگ ڈِنگ کا اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’تین فیصد بجٹ خسارہ کافی نہیں ہے۔ اس میں مزید اضافے کی ضرورت ہے۔‘‘

واضح رہے کہ چین میں یک جماعتی نظام نافذ ہے۔ یہ ملک معاشی اعتبار سے تو سرمایہ داری نظام پر قائم ہو چکا ہے تاہم یہاں سیاسی اعتبار سے کمیونسٹ پارٹی کی حکومت ہے جو چین کے تمام اقتصادی معاملات اپنے ہاتھ میں ہی رکھتی ہے۔

چین کا سالانہ پارلیمانی اجلاس گو کہ تاثر یہ دیتا ہے کہ اس ملک میں تمام فیصلے طویل بحث و مباحثے کے بعد ہی طے پاتے ہیں، تاہم ناقدین کا مؤقف ہےکہ اصل فیصلے کمیونسٹ پارٹی کی اشرافیہ طے کر لینے کے بعد انہیں پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرتی ہے اور اس کے بعد ان پر محض علامتی بحث کی جاتی ہے۔

چین کو معاشی ترقی کی آڑ میں انسانی حقوق اور آزادی اظہار کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔