1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین کے سمجھوتے کے بعد جی 20 اقتصادی انڈیکیٹرز پرمتفق

پیرس میں منعقدہ دنیا کی 20 بڑی اقتصادی طاقتوں کے اجلاس جی 20 میں چین کے خدشات دور کرنے کے بعد عالمی انڈیکیٹرز پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ ان اشاروں کی بدولت عالمی اقتصادی صورتحال پر نگاہ رکھی جا سکے گی۔

default

گزشتہ عالمی اقتصادی بحران کے بعد سے اب تک جی 20 ممالک ایسے انڈیکیٹرز متعین کرنے پر غور کر رہے ہیں، جن کے ذریعے عالمی اقتصادی حالات کو نظر میں رکھا جائے اور کسی ممکنہ بحرانی کیفیت سے پیشگی نمٹا جا سکے۔ گزشتہ روز گروپ 20 کے اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز پر چین نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ان تجاویز میں کہا گیا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو عالمی انڈیکیٹرز کے طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عالمی اقتصادی عدم توازن کے حل میں مدد ملے، تاہم چین اور برازیل کو اس عالمی معاہدے میں زرمبادلہ کے لفظ پر اعتراض تھا۔

G20 Treffen Paris 2011 Wolfgang Schäuble

جرمن وزیرخزانہ نے امید ظاہر کی تھی کی جی 20 ممالک کسی متفقہ لائحہ عمل پر آمادہ ہو جائیں گے

فرانسیسی وزیر خزانہ Christine Lagarde نے اجلاس کے بعد اپنے ایک بیان میں اس معاہدے کو ’پہلے قدم‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح عالمی اقتصادیات کو دوبارہ پٹری پر لایا جا سکے گا اور عالمی ترقی اور تجارتی عدم توازن کے حوالے سے پیش رفت سامنے آئے گی۔

Christine Lagarde نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چین کے اپنی کرنسی اور تجارتی توازن کے حوالے سے حساس رویے کے باعث جی 20 اجلاس میں عالمی انڈیکیٹرز کے تعین کے بارے میں تفصیلی بحث کی گئی اور اجلاس کے آخری لمحات میں مختلف امور پر اتفاق رائے ہوا، تاہم یہ آسان ہر گز نہیں تھا۔

واضح رہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ اور تیز رفتاری سے ترقی کرتی ہوئی 20 بڑی عالمی معیشتوں کے اجلاس جی 20 کی میزبانی پہلی مرتبہ فرانس نے کی ہے، جبکہ وزارئے خزانہ کی سطح کے اس اجلاس میں جی 20 ممالک میں اندرونی اور عالمی سطح پر ایسے اشارے متعین کئے گئے ہیں، جو ان ممالک کی داخلی اور عالمی اقتصادی صورتحال پر نگاہ رکھنے میں مدد فراہم کریں گے۔

سن 2008ء میں عالمی اقتصادی بحران کے باعث یہ عالمی معیشتیں بری طرح سے متاثر ہوئی تھیں اور ابھی تک اس عالمی بحران کے اثرات ان معیشتوں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس اجلاس کا ایک مقصد متفقہ اقدامات کے ذریعے بین الاقوامی اقتصادیات میں توازن کی کوششوں میں ربط پیدا کرنا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM