1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین کے ساتھ تجارت یا دلائی لاما کا استقبال

معاملہ ہمیشہ ایک ہی طرح کا ہوتا ہے۔ کسی ایک ملک کا سینئر اہلکار دلائی لاما کا استقبال کرتا ہے۔ جواب میں بیجنگ حکومت غصے کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے بگڑنے کی دھمکی دیتی ہے۔

default

کیا چینی قیادت کی یہ دھمکیاں واقعی سچ ہیں اورکیا ان دھمکیوں کے نتیجے میں چین کے تجارتی تعلقات واقعی دوسرے ممالک سے متاثر ہوتے ہیں؟ اس بارے میں گوٹینگن یونیورسٹی نے ایک تحقیق کی ہے، جو انتہائی حیران کن ہے۔ یہ تحقیق کرنے والے پروفیسرہنڈرک کلان کا کہنا ہے۔

’’ہمیں تحقیق سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ، جتنا سینئر اہلکار دلائی لاما کا استقبال کرتا ہے، چین کے اس ملک کے ساتھ اتنے ہی تجارتی تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر دلائی لاما جن مما لک کے اکثر دورے کرتے رہیں ہیں، ان ممالک کے ساتھ چین کی برآمدات اور درآمدات میں 8 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ 2008ء میں فرانس کے صدر نکولا س سارکوزی نے دلائی لاما کا استقبال کیا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ چین نے اپنے تجارتی وفد کو فرانس کا تجارتی دورہ کرنے سے روک دیا تھا۔

Dalai Lama Flash-Galerie

دلائی لاما نیویارک کے سینٹرل پارک میں چالیس ہزار افراد سے خطاب کرتے ہوئے

ایک طرف تو یورپ کے رہنما دلائی لاما کا خود استقبال کرنا چاہتے ہیں ،کیونکہ اس طرح کرنے سے عوام میں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری طرف کوئی بھی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ اس کی اقتصاديات کو نقصان پہنچے۔

بل کلنٹن کے دور حکومت میں بھی امریکی انتظامیہ نے دلائی لاما کو وائٹ ہاوس کے دورےکی دعوت دی تھی۔ تاہم اس دورے کے دوران دلائی لاما کی صدر کے ساتھ ملاقات ممکن نہ ہوسکی۔ اس دورےکے دوران دلائی لاما ایک وزیر سے ہی مل سکے تھے۔ دورے کے اختتام پر بل کلنٹن کی دلائی لاما کے ساتھ ایک اچانک ملاقات ہوئی، جس کو غیر رسمی ملاقات کا نام دیا گیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت : کشور مصطفٰی

DW.COM