1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین کے دریائےمیکونگ پر ڈیم کی تعمیر

چین کے ایک سینئر سفارتکار نے تھائی انوائرمنٹل گروپس کے اس الزام کو مسترد کیا ہے کہ یونن صوبے میں دریائے میکونگ پر تعمیر کئے جانے والے ڈیم سے وہاں پانی کی سطح پست ہوگی۔

default

بینکاک میں ڈوئچے ویلے کے نامہ نگار ر"رون کاربن" کی رپورٹ کے مطابق چینی سفارتکاروں اور سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشاء، بھارت اور چین میں پانی کی سطح کم ہونے کی اصل وجہ خشک سالی ہے۔

چارہزار تین سو کلو میٹر طویل دریائے میکونگ جو تبت کے میدانی علاقوں سے ہوتا ہوا ویت نام سے گزر کر جنوبی چین کے سمندر میں گرتا ہے، میں پچھلے پچاس برس میں پہلی بار پانی کی سطح انتہائی کم ہوئی ہے۔ اور چین کے نائب وزیر خارجہ "ہو زنگ یو" نےحال ہی میں تھائی وزیراعظم ابھیست ویجا جیوا کو بتایا ہے کہ پانی کی سطح کم ہونے کی وجہ ڈیم کی تعمیر نہیں ہے۔ چین پہلے ہی اپنےایک ہائڈروالیکٹرک ڈیم کی تعمیرمکمل کر چکا ہے اور یونن صوبے میں ابھی مزید آٹھ ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ میکونگ ریورکمیشن کے چیف ایگزیکیٹیو 'جرمی برڈ‘ کا بھی یہی کہنا ہے کہ پانی کی سطح کم ہونے کی اصل وجہ خشک سالی ہے۔

انہوں نے کہا: ’’پانی کے موجودہ بہاؤ کو دیکھتے ہوئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان منصوبوں نے پانی کی مقدار کو متاثر کیا ہے البتہ اگر یہ ڈیم تعمیر نہ کیے گئے ہوتے تو ہو سکتا تھ کہ رواں سال جنوری میں ہی پانی کی کمی کا مسئلہ پیدا ہوجاتا۔‘‘

برڈ کے مطابق تھائی لینڈ اور لاؤس کی طرح یونن کو بھی خشک موسم کا سامنا ہے۔ اور دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہونے سے جنوبی چین سے تھائی لیند تک ریور بوٹ ٹریڈ بھی متاثر ہوئی ہے۔

ماحولیاتی اداروں کا ابھی بھی یہ خیال ہے کہ پانی میں کمی کی اصل وجہ اس ڈیم کی تعمیر ہی ہے۔

Save the Mekong coalition گروپ کے ایک کارکن پیانپورن کہتے ہیں : ’’ہم سمجھتے ہیں کہ دریاؤں میں کمی کی وجہ صرف بارشوں کا نہ ہونا نہیں ہے کیونکہ غیرفطری طور پر پانی میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آرہا ہے جس کی وجہ ڈیموں کی تعمیر ہی ہو سکتی ہے۔لا کھوں لوگ دریائے میکونگ کا پانی کھانے پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور پانی کی قلت کے مسئلے کے سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘

محکمہ موسمیات کے ماہر اور قومی ڈیزاسٹر وارننگ سینٹر کے سربراہ سمتھ دھرماسرویا کا خیال ہے کہ پانی کے ذخائر پر گلوبل وارمنگ کا بھی گہرا اثر ہوگا اور ایسا لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں پانی کی بنیاد پر جنم لینے والے تنازعات میں اضافہ ہوگا۔

سمتھ کے بقول: ’’ یقینا وہ لڑیں گے۔ پانی کے لئے ہر ملک لڑے گا۔ جب اس خطے کے لوگوں کو پینے کے لیے پانی نہیں ملے گا تو وہ اس کے لئے لڑیں گے۔ ہم انتظار کریں گے اور دیکھیں گے کہ آنے والے دنوں میں لاؤس، تھائی لینڈ، میانمااور کمبوڈیا کے درمیان جنگ ہوگی۔‘‘

تھائی لینڈ کے ایک انگریزی اخبار نے اپنے ایک حالیہ اداریے میں لکھا ہے کہ میکونگ ریور ایکولوجیکل سسٹم اورلاؤس، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور میانمار کے عوام پہلے ہی ڈیموں کی تعمیر پر خوش نہیں ہیں۔

رپورٹ: بخت زمان

ادارت: کشور مصطفیٰ