1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین کے امیرترین شخص کی دولت تیزی سے بڑھتی ہوئی

چین کے سب سے امیر کبیر شخص وانگ جیانلِن ہیں اور وہ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔ وہ دنیا کے پندرہویں امیر ترین شخص قرار دیے گئے ہیں۔

default

چین کے سب سے امیر کبیر شخص وانگ جیانلِن

وانگ جیانلِن کی دولت کے حجم میں گزشتہ برس سترہ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ خطیر رقم یورپی ملک آئس لینڈ کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار سے بھی زیادہ رہی۔ چین کے امیر ترین شخص کی دولت کے حجم کی تصدیق کارباری میگزین فوربز نے کی ہے۔ فوربز کی جانب سے کیے جانے والے اِس اعلان کے بعد ٹیلی وژن پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے وانگ جیانلِن نے کہا کہ دولت کا ہونا اچھی بات ہے۔ وہ دنیا کے ارب پتیوں میں پندرہویں مقام پر فائز ہیں۔ چین کے امیر ترین افراد میں وہ پہلی پوزیشن پر ہیں۔ اُن کی کُل دولت کا تخمینہ تیس ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

چین میں حالیہ مہینوں کے دوران اقتصادی سست روی دیکھی گئی ہے تاہم وانگ جیانلِن کی دولت میں اضافہ ہوا۔ اِس سست روی کی وجہ سے چینی اقتصادی منڈیوں میں وانگ جیانلِن کی دو کمپنیوں کو بھاری خسارے کا سامنا رہا۔ رواں برس موسمِ گرما میں چینی اسٹاک مارکیٹوں میں پیدا ہونے والی شدید مندی میں چین کے اِس امیر کبیر شخص کو ساڑھے تین بلین ڈالر سے زائد کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا کیونکہ کئی دوسری کمپنیوں کے ساتھ ساتھ اُن کی ملکیتی کمپنیوں کے حصص میں بھی شدید مندی واقع ہوئی تھی۔

Forbes Magazin

چین کے امیر ترین شخص کی دولت کے حجم کی تصدیق کارباری میگزین فوربز نے کی ہے

وانگ جیانلِن کا والد چین کی سرخ فوج یا ریڈ آرمی کا کپتان تھا۔ وانگ بھی بنیادی طور پر ایک فوجی رہ چکا ہے۔ اکسٹھ برس کے سابق فوجی نے سن 1980 میں اپنی مرکزی کمپنی وانڈا کی بنیاد رکھی تھی۔ وانڈا کے سائے تلے ریئل اسٹیٹ کے ساتھ ساتھ تفریحی کاروبار کو بھی عوامی سطح پر پھیلایا گیا۔ وانڈا کی ویب سائٹ پر دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ براعظم ایشیا میں پراپرٹی کی سب سے بڑی نجی کمنپی ہے۔ اِس کمپنی کا نظم و نسق بھی وانگ جیانلِن نے فوج کے انداز میں قائم کر رکھا ہے۔

وانگ جیانلِن کا کہنا ہے کہ وہ اِس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ مسلسل لگن اورمحنت سے دولت کمانے کے بعد اُس کی منصفانہ تقسیم ہی سب سے بڑی قوت ہوتی ہے۔ وانگ کے خیال میں ہر امیر شخص کو ارد گرد کے مستحق اور دوسرے امور کے لیے دولت کی تقسیم کرنا ضروری ہوتی ہے۔ بعض ناقدین کا خیال ہے کہ وانگ کی مالی کامیابی میں اُن کا حکومتی حلقوں سے قریبی تعلق بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ اِس کے جواب میں وانگ کہتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے اور چین میں مالیاتی ترقی کے لیے ذاتی تعلقات کوئی بڑا کردار ادا نہیں کرتے بلکہ مارکیٹ میں قوت بخش تخلیقی سرگرمیاں سود مند ہوتی ہیں۔ انہوں نے ہسپانوی کلب ایٹلیٹکو میڈرڈ کے حصص میں سرمایہ کاری رکھی ہے۔ انہوں نے سن 2012 میں امریکا میں سینما گھروں کے ایک بڑے سلسلے اے ایم سی انٹرٹینمنٹ کو ڈھائی بلین ڈالر سے زائد سرمائے سے خریدا تھا۔