1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چین کی مدد سے بھارتی الیکٹرونک کمپنیوں کی ترقی

بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیاں تیزی سے ترقی کررہی ہیں اور مختلف مصنوعات کے نئے نئے برانڈز سامنے آرہے ہیں۔ یہ برانڈزچینی فیکٹریوں کی سستی مصنوعات کے استعمال کے ذریعے معروف مغربی برانڈزکی جگہ لینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

default

ان بھارتی کمپنیوں میں بہت سی ایسی ہیں جوملکی موبائل فونز مارکیٹ میں اپنے قدم جما رہی ہیں تو بہت سی ایسی بھی ہیں جن کی نظریں بین الاقوامی سطح پر ٹیبلیٹ کمپیوٹر اور پرسنل کمپیوٹرز کی مارکیٹ میں جگہ بنانے پر لگی ہیں۔

بھارت کے شہر بنگلور میں قائم 'Notion Ink' کے مالک روحان شہروان نے تین سال پہلے یہ کمپنی شروع کی تھی۔ ان کی کمپنی ایڈم کے نام سے ٹیبلیٹ کمپیوٹر مارکیٹ میں لا رہی ہے جس کی فروخت اگلے ہفتے سے شروع ہو جائے گی۔ جبکہ آئی پیڈ کی طرز کا ان کی کمپنی کا تیار کردہ ٹیبلٹ کمپیوٹر سال کے اواخر میں امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی فروخت کے لئے پیش کر دیا جائے گا۔ روحان کے بقول ان کی کمپنی چاہتی ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی مصنوعات نئے معیار قائم کریں۔ وہ پرامید ہیں کہ ان کی تیارکردہ مصنوعات کے لئے مارکیٹ میں ترقی کے بہت مواقع ہیں۔

CeBIT Indien 3.jpg

بھارتی کمپنیاں بین الاقوامی مارکیٹ میں جگہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں

اسی طرح موبائل فون مارکیٹ میں شدید مقابلے بازی کے باوجود بھارتی کمپنیاں بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ، قرضوں تک رسائی اور کم قیمت ٹیکنالوجی کے باعث لوگوں کی قوت خرید میں ضافہ ہوا ہے۔ موبائل سیکٹر میں Karbonn اور Micromax, Lava, Spice, جیسی بھارتی کمپنیاں گزشتہ ایک سال کے عرصے میں بہت تیزی سے ترقی کرتی چلی گئیں اور اب اپنی جارحانہ مارکیٹینگ کے سبب Nokia جیسی بڑی کمپنی کے لیےبھی مقامی مارکیٹ میں مشکلات کا سبب بنتی جارہی ہیں۔ کیونکہ ان بھارتی کمپنیوں کو چین کی تیارکردہ سستی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہے۔

بھارتی مصنوعات پر نظر رکھنے والی ایک بھارتی کمپنی IDC کی جانب سےستمبر میں شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مقامی کمپنیوں کے متعارف کردہ موبائل فونز کی فروخت کا حصہ 33 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ محض دو برس قبل تک یہ حصہ صرف 0.9 فیصد تھا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس