1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین کی شہر کاری ماحولیات کے لیے نقصان دہ

اونچی اونچی عمارتوں کا جنگل، آسمانوں کو چھوتی ہوئی کُہر میں لپٹی کرینزاور سڑکوں پر ٹریفک جام، یہ ہے منظر جنوبی چین کے ایک میگاسٹی Chongqing کا، جس کا سائز یورپی ملک آسٹریا جتنا ہے۔

default

شنگھائی کا ایک منظر

اس چینی شہر میں 32 ملین سے زاید باشندے آباد ہیں۔ اس شہر کی انتظامیہ شہری آبادی میں ہونے والے ہوش رُبا اضافے کے سبب گہری تشویش کا شکار ہے۔ تاہم یہ مسئلہ محض اس ایک شہر کا نہیں۔ 1.3 بلین کی آبادی والے اس ملک کے باشندوں کو زیادہ تر شہروں کی صورتحال ایسی ہی دکھائی دیتی ہے۔

ایک 80 سالہ چینی ژوڈے شونگ کا کہنا ہے کہ انہیں اس امر کی سخت حیرانی ہے کہ ایسے چینی شہروں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جہاں بے تحاشہ ٹریفک، آلودہ آب و ہوا اور ہر طرف سے مشینی ہتھوڑوں کی آوازیں، جو کانوں کے پردوں کو پھاڑے دیتی ہیں، میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ژو ڈے شونگ کے مطابق چینی شہروں میں اس قسم کی ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔

Bauboom in Peking

چین میں تعمیراتی کام عروج پرہیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند برسوں کے دوران 350 ملین سے زاید افراد چین کے مختلف علاقوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کریں گے۔ اس طرح چین کی شہری آبادی 2030ء تک ایک بلین ہونے کے امکانات قوی ہیں۔ اس سلسلے میں McKinsey & Company نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ یہ آجرین اور شہری انتظام کے امور میں مشورہ دینے والا ایک ایسا ادارہ ہے جس کی شاخیں دنیا کے 52 ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔

اس ادارے کی تازہ ترین رپورٹ سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ چین میں ہونے والی بے مثال شہر کاری بہت جلد ایسے شہروں کی تعداد میں دو گنا اضافے کا باعث بنے گی، جہاں کی آبادی ایک ملین یا اس سے زیادہ ہوگی۔ اس کے سبب پانچ ملین نئی عمارتوں کی تعمیر، جن میں 50 ہزار فلک بوس عمارتیں شامل ہوں گی،کی ضرورت پڑے گی۔ یہ نیو یارک جیسے دس شہروں جتنا ہو گا۔

شہر کاری کے بڑھتے ہوئے رجحان سے ایک طرف تو چینی معیشت پر غیر معمولی دباؤ پڑ رہا، ہے دوسری جانب چین کے بدستور کم ہوتے ہوئے قُدرتی وسائل سے پیدا ہونے والے مسائل میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ سماجی سطح پر بھی شہر کاری کے منفی اثزات مرتب ہو رہے ہیں کیونکہ لاکھوں کروڑوں چین باشندے شہروں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جہاں روز گار کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ ہے اور اپنی بقا کے لیے جدوجہد کرنے والے ان افراد کے مابین تصادم کے خطرات ہر وقت موجود رہتے ہیں۔

Brückenbau in ländlicher Region um Qingdao

Qingdao کے مقام پر پُل تعمیر کیا جا رہا ہے

اُدھر سڈنی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر لو ڈوان فنگنے کہا ہے کہ تیز رفتار شہر کاری ماحولیات پرسنگین اثرات مرتب کرے گی، کیونکہ شہروں سے متصل زرعی رقبے کو اونچی عمارتوں کی تعمیر کے لیے استعمال میں لایا جا رہا ہے اور توانائی اور پانی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس