1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین کی بنگلہ دیش میں ممکنہ سرمایہ کاری، بھارت کی پریشانی

چین کے صدر نے بنگلہ دیش کا دو روزہ دورہ شروع کر دیا ہے۔ وہ بھارت کی میزبانی میں شروع ہونے والے برکس تنظیم کے سربراہ اجلاس میں شرکت سے قبل بنگلہ دیش کے دورے پر ہیں۔

Bangladeschs Premierministerin Sheikh Hasina trifft Chinesischen Präsidenten Xi Jinping 2014 (picture-alliance/dpa/W. Zhao/Pool)

چینی صدر شی جنگ پنگ اور بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ

شی جن پنگ وہ پہلے چینی صدر ہیں، جو بنگلہ دیش کے دورے پر ڈھاکا پہنچے ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت کو توقع ہے کہ چینی صدر کی موجودگی میں دونوں ملکوں کی حکومتیں اربوں ڈالر کے سمجھوتوں کو حتمی شکل دیں گی۔ یہ امر اہم ہے کہ موجود کمزور معاشی حالات میں ڈھاکا حکومت ملکی اقتصادیات کی بہتری کے لیے غیرملکی سرمایہ کاری کی متلاشی ہے۔ اسی تناظر میں شیخ حسینہ کی حکومت چین کے ساتھ تجارتی و اقتصادی روابط کو استحکام دینے کی کوشش میں ہے۔

بنگلہ دیشی حکومتی اہلکاروں کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ کی موجودگی میں بنگلہ دیش کے لیے سرمایہ کاری کے قرضے کے تحت دونوں ملکوں کے اہلکار کئی معاہدوں پر دستخط کریں گے۔ ان معاہدوں کے تحت بیجنگ حکومت بیس ارب ڈالر کے لگ بھگ سرمایہ فراہم کرے گی۔ بنگلہ دیش کو توقع ہے کہ چین ٹرانسپورٹ کے کمزور ڈھانچے کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ انرجی کے شعبے کو تقویت دینے کے لیے بھی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو بنگلہ دیشی حکومت کو اپنے سولہ کروڑ سے زائد عوام کے لیے روزگار کے بےشمار نئے مواقع پیدا کرنے میں کامیابی حاصل ہو گی۔

Indien und Bangladesch regeln jahrzehntealten Grenzstreit (picture-alliance/AP Photo/A.M. Ahad)

نریندر مودی اور شیخ حسینہ

ڈھاکا میں قیام کے دوران چینی صدر شی جنگ پنگ باضابطہ طور پر ایک انڈسٹریل پارک کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوں گے۔ یہ صنعتی پارک اسٹریٹیجک ساحلی شہر چٹاگانگ کے قریب قائم کیا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کے اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ اس انڈسٹریل پارک میں چین کے صنعتی یونٹوں کو سستی لیبر دستیاب ہونے سے دونوں ملکوں کو مالی منفعت حاصل ہو سکے گی کیونکہ صرف اِس پارک میں پانچ سے سات بلین ڈالر کی چینی سرمایہ کاری کا امکان موجود ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ڈھاکا اور بیجنگ کے درمیان اقتصادی روابط سے خاص طور پر بھارتی حکومت کو پریشانی لاحق ہو سکتی ہے اور دوسری جانب چین کے علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو گا۔ اسی تناظر میں کہا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش قطعی طور پر بھارتی اثر و رسوخ کے دائرے میں واقع ایک ملک ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ وزیراعظم شیخ حسینہ کو سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہو گا کیونکہ چین کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی افزائش بھارت کی برہمی کا سبب بن سکتی ہے۔ بھارت اِس وقت بنگلہ دیش کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔