1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین کی افغانستان کے ساتھ گہرے عسکری روابط کی خواہش

چین کی خواہش ہے کہ وہ مستقل بنیادوں پر افغانستان کے ساتھ گہرے فوجی تعلقات استوار کرے۔ دوسری جانب چین ان کوششوں میں بھی شامل ہے، جو افغانستان میں امن قائم کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

چین کے طاقتور عسکری ادارے سینٹرل ملٹری کمیشن کے رکن فانگ فینگ ہوئی نے افغان صدر اشرف غنی کے قومی سلامتی کے مشیر محمد حنیف اتمار کے ساتھ ملاقات میں واضح کیا کہ اُن کا ملک چاہتا ہے کہ چینی اور افغان افواج کے درمیان پائے جانے والے بہتر تعلقات کو مستقبل میں مزید پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ چین کی ساری افواج کا نگران ادارہ بھی سینٹرل ملٹری کمیشن ہے۔ چین کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ چین کی خواہش ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے معاملے پر بھی بیجنگ اور کابل کی حکومتیں عسکری آپریشنز میں تعاون کریں۔

اِس بیان کے مطابق فینگ نے ملاقات کے دوران بیجنگ حکومت کی خواہش کا اظہار کیا کہ اُن کی افواج بھی افغان فوجی دستوں کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں شریک ہونے کی گنجائش رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ چین نے افعان فوج کی تربیت کو افغان حالات کے تناظر میں اہم قرار دیا۔ چینی وزارت دفاع کے بیان میں واضح کیا گیا کہ یہی وہ عسکری پہلو ہیں جن میں افغان حکومت کے ساتھ رابطوں کو عملی شکل دینے میں بیجنگ حکومت پیش رفت چاہتی ہے۔

Hanif Atmar Innenminister Afghanistan

افغان صدر کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اتمار

فینگ نے افغان اہلکارکو بتایا کہ خاص طور پر انسداد دہشت گردی میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون خاص طور پر کابل حکومت کے لیے زیادہ فائدہ مند ہو سکتا ہے کیونکہ اِس تعاون سے افغانستان میں امن کوششوں کو فروغ حاصل ہو سکے گا۔ یہ امر اہم ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے لیے چار ملکوں کی مشترکہ کمیٹی میں چین بھی شامل ہے۔ اِس کمیٹی کی دوسری رکن ریاستیں امریکا، پاکستان اور افغانستان ہیں۔ اِس گروپ کی کوشش ہے کہ طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر لا کر بٹھایا جائے تا کہ وہ آپس میں امن معاملات کو آگے بڑھا سکیں۔ فینگ ہوئی نے افغان اہلکار کو بتایا کہ اُن کا ملک علاقے میں امن و سلامتی چاہتا ہے اور اسی تناظر میں افغانستان میں بھی استحکام اور ترقی ضروری ہے۔

محمد حنیف اتمار نے بھی اِس میٹنگ میں چینی حکومت کو بتایا کہ اشرف غنی کی حکومت چین کے ساتھ عسکری معاملات میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے اور انسدادِ دہشت گردی میں بھی چین کے ساتھ دو طرفہ روابط اور معاونت کے لیے تیار ہے۔ اتمار نے فانگ فینگ ہوئی کو تفصیلاً بتایا کہ مشرقی ترکمانستان موومنٹ کو کنٹرول کرنے میں افغان حکومت نے کس طرح کا مؤثر کردار ادا کیا ہے اور مستقبل میں کرتی رہے گی۔ چینی صوبے سنکیانگ میں مشرقی ترکمانستان اسلامک موومنٹ ہی کو بیجنگ حکومت تشدد اور دوسرے دہشت گردانہ واقعات میں ملوث قرار دیتی ہے۔