1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چین کا ژانگمو ڈیم: بھارت اور ماحولیاتی ماہرین کے خدشات

چین کی طرف سے اب تک ڈیم کے بغیر اپنے آخری دریا پر ڈیم کی تعمیر کا آغاز کردیا گیا ہے۔ یارلُنگ سانگپو نامی دریا پر ژانگمو ڈیم سطح مرتفع تبت میں تعمیر کیا جارہا ہے۔

دریائے یارلُنگ سانگپو

دریائے یارلُنگ سانگپو

چونکہ یارلُنگ سانگپو دریا چین سے بھارت میں داخل ہوتا ہے اس لیے نئے ڈیم کی تعمیر کے خلاف بھارت کی طرف سے سخت احتجاج کیا جارہا ہے۔ چین سے بھارت میں داخل ہونے کے بعد اس دریا کا نام برہم پُتر ہوجاتا ہے اور اسے بھارت کا ایک اہم دریا قرار دیا جاتا ہے۔ بھارت کو خدشہ ہے کہ اس نئے ڈیم کی تعمیر پانی کا رُخ موڑنے کے چینی منصوبے کا حصہ ہے اور اس سے بھارت نہ صرف قیمتی پانی سے محروم ہوجائے گا بلکہ اس دریا کے کنارے بسنے والے لوگوں کی گزر اوقات بھی خطرات کا شکار ہوجائے گی۔

سطح سمندر سے تین ہزار میٹر اوپر یہ ڈیم چین کا بلند ترین ڈیم ہوگا۔ بھارتی سرحد سے قریب 200 کلومیٹر کے فاصلے پر تعمیر کیے جانے والے اس ڈیم پر 85 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے والے چھ یونٹس لگائے جائیں گے۔ امید کی جارہی ہے کہ یہ یونٹس 2014ء تک فعال ہوجائیں گے اور تبت کے دارالحکومت لہاسا کو بجلی کی فراہمی شروع کردیں گے۔

ڈیم دریاؤں کا رُخ تبدیل کردیتے ہیں جس کے نتائج خشک سالی اور سیلابوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، ماہرین ارضیات

ڈیم دریاؤں کا رُخ تبدیل کردیتے ہیں جس کے نتائج خشک سالی اور سیلابوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، ماہرین ارضیات

برسلز انسٹیٹیوٹ آف کنٹمپریری چائنیز اسٹڈیز کے ماہر جوناتھن ہوسلاگ کا کہنا ہے کہ ژانگپو ہائیڈروپاور اسٹیشن کی تعمیر دراصل چین کی طرف سے ایک نئی طرح کی سیاست کا آغاز ہے۔ چین کو امید ہے کہ تبت کو بجلی فراہم کرکے وہاں خوشحالی اور ترقی ہوگی۔ ہوسلاگ کے بقول چینی رہنماؤں کو یقین ہے کہ اس طرح نہ صرف دیرپا معاشی استحکام پیدا ہوگا بلکہ قومی اتحاد کو بھی فروغ ملے گا: ’’میرے خیال میں چین کی داخلی سیاست اس حوالے سے زیادہ اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ تبت میں معاشی ترقی سے وہاں کے عوام میں نہ صرف دوستانہ جذبات پیدا ہوں گے بلکہ اس سے وہ زیادہ مرکز نواز بھی ہوجائیں گے۔‘‘

تاہم ماہرین ماحولیات چین کے ژانگمو ڈیم کے حوالے سے کئی تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔ سب سے اہم تو یہ کہ ڈیم دریاؤں کا رُخ تبدیل کردیتے ہیں جس کے نتائج نہ صرف خشک سالی اور سیلابوں کی صورت میں سامنے آتے ہیں، بلکہ اس سے مقامی ماحولیاتی نظام بھی خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ بعض ماہرین ارضیات کے مطابق ڈیموں کی تعمیر سے زلزلوں کے خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ برلن کی فری یونیورسٹی کے مرکز برائے ترقیاتی علوم کے ماہر ہیرمان کروئٹزمان ڈیموں کے حوالے سے اعداد و شمار بیان کرتے ہیں: ’’دنیا بھر میں اس وقت ہائیڈروپاور ڈیموں کی کُل تعداد 46 ہزار سے کچھ زائد ہے، تاہم ان میں سے نصف صرف چین میں تعمیر کیے گئے ہیں۔ چین کی طرف سے توانائی کے حصول کے لیے اپنے دریاؤں پر ڈیم تعمیر کرنے کا ایک بڑا منصوبہ جاری ہے اور ژانگمو ڈیم بھی محض اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے۔‘‘

چینی حکام کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ژانگمو دراصل ’رن آف دا ریور‘ ڈیم ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اس ڈیم سے نہ تو دریا کا رُخ تبدیل ہوگا اور نہ ہی اس کا پانی روکا جائے گا، تاہم کروئٹرمان کے خیال میں یہ کسی بڑی چیز کی ابتدا ہوسکتی ہے، جیسا کہ ڈیموں کے ایک سلسلے کا مکمل نظام۔

’’دنیا بھر میں اس وقت ہائیڈروپاور ڈیموں کی کُل تعداد 46 ہزار سے کچھ زائد ہے، تاہم ان میں سے نصف صرف چین میں تعمیر کیے گئے ہیں‘‘

’’دنیا بھر میں اس وقت ہائیڈروپاور ڈیموں کی کُل تعداد 46 ہزار سے کچھ زائد ہے، تاہم ان میں سے نصف صرف چین میں تعمیر کیے گئے ہیں‘‘

ژانگمو ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے صورتحال کو مکمل طور پر واضح نہیں کیا گیا اور اسی بات پر بھارتی ناقدین کو تحفظات ہیں۔ چین کی طرف سے سرکاری بیان اس وقت تک جاری نہیں کیا گیا جب تک اس ڈیم کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوگیا۔ دوسری طرف ملک کے مغربی حصوں کی ترقی کے حوالے سے چین کا منصوبہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ اس منصوبے میں سطح مرتفع تبت سے پانی کا رخ ملک کے زرعی علاقوں کی طرف موڑنا بھی شامل ہے۔ ہوسلاگ کے بقول یہی وہ اہم بات ہے جس پر نئی دہلی پریشان ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اگر چین پانی کا رخ موڑنے کے منصوبوں پر عملدرآمد کرتا ہے تو اس کا نتیجہ پانی کے حوالے سے ایک جنگ کی سی شکل میں نکل سکتا ہے: ’’بھارتی حوالے سے یہ منصوبہ نہ صرف اس کی ترقی پر بری طرح اثرانداز ہوسکتا ہے، بلکہ یہ زرعی نظام کو جدید بنانے کی اس کی کوششوں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ یہ نہ صرف بھارت کے لیے قومی سلامتی کا ایک مسئلہ بن جائے گا بلکہ یہ بھارتی مستقبل پر بھی ایک حملے کی طرح ہوگا۔ اس کا نتیجہ فوجی نہ سہی مگر سیاسی کشمکش کی صورت میں ضرور نکلے گا۔‘‘

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ چین اور بھارت کو اپنے معاملات سلجھانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے اور اس کا آغاز دونوں طرف سے معاملات میں شفافیت سے ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ہائیڈروپاور اسٹیشنز کی تعمیر انتہائی ذمہ داری سے کی جانی چاہیے۔ مزید یہ کہ اس سے ماحول کو ضرور نقصان پہنچتا ہے۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: کِشور مُصطفیٰ

DW.COM