1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین کا میزائل شکن نظام کا کامیاب تجربہ

چین میں سرکاری میڈیا کے مطابق بیجنگ نے زمین سے فضا میں مار کرسکنے والے ایک ایسے دفاعی نظام کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو بین البراعظمی بیلیسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر سکتا ہے

default

یہ چینی تجربہ امریکہ کے اس اعلان کے محض چھ روز بعد کیا گیا کہ واشنگٹن تائیوان کو اپنا ایک جدید میزائل شکن نظام بیچے گا۔ چین میں سرکاری خبررساں ادارے نے بتایا کہ پیر کو کئے گئےاس میزائل شکن نظام کےتجربے سے بیجنگ کومطلوبہ نتائج حاصل ہو گئے ہیں۔ حکومت کےجاری کردہ محض تین لائنوں کےایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تجربہ ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے کیا گیا، نہ کہ کسی ملک کو نشانہ بنانے کے لئے۔

حکومتی بیان میں اس نئے میزائل شکن نظام کی کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئیں تاہم چند تصاویر ضرور جاری کی گئی ہیں۔

امریکہ کی طرف سے تائیوان کوجدید میزائل شکن نظام مہیا کئے جانے کے اعلان سے قبل ہی چین نے واشنگٹن سے سخت احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ تائیوان کو یہ اینٹی میزائل سسٹم فروخت نہ کیا جائے۔

چھ روز پہلے امریکہ نے تائیوان سے 1.1 بلین ڈالر مالیت کا ایک ایسا معاہد ہ کیا جس کے تحت تائیوان کوپیٹریئٹ نامی اینٹی میزائل سسٹم مہیا کیا جائے گا۔

چین نے، جو تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے، امریکہ کو خبردار کیا تھا کہ اگر تائی پے کے ساتھ ایسی کوئی ڈیل کی گئی تو بیجنگ اور واشنگٹن کے مابین تعلقات خراب ہو جائیں گے۔ ہفتے کے روز چینی وزارت دفاع نےاپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ امریکہ اورتائیوان کے مابین اسلحہ کا یہ سمجھوتہ نہ صرف چین کی سلامتی کے لئے خطرہ ہے بلکہ اس وجہ سے پورے علاقے کی سلامتی کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

Raketenabwehrsystem Patriot

اس چینی تجربے کو امریکہ اورچین کے مابین تعلقات میں کشیدگی سے بھی تعبیرکیاجارہا ہے

واضح رہے کہ گزشتہ چند سال کے دوران چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں ڈرامائی اضافہ کیا ہے۔ ایک مطالعے کے مطابق سن 2008ء میں چین اپنے فوجی بجٹ کے حوالے سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک بن گیا تھا۔

اسٹاک ہولم میں امن اور سلامتی کے موضوع پر کام کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اسلحے کی دوڑ میں سب سے زیادہ مالی وسائل خرچ کرنے والا ملک امریکہ ہے۔

یہ خیال بھی کیا جاتا ہے کہ بیجنگ حکومت ایک ایسی بحری فوج بھی تیار کر رہی ہے، جو تائیوان کے ساتھ جنگ کی صورت میں امریکی فوج کو اس علاقے میں آنے سے روکے گی۔ ماضی میں چین، کئی بار دھمکی دے چکا ہے کہ اگر تائیوان نے باقاعدہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کیا تو چین اسے زبردستی اپنی جغرافیائی حدود میں لے آئے گا۔ تاہم سن 2008ء میں تائیوان میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں چین نواز رہنما Ma Ying-jeou کی کامیابی کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM