1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین کا ایک ارب پتی قانونی شکنجے میں

چین کے سب سے بڑے پرائیوٹ سیکٹر کے گروپ فوسن کے ارب پتی چیئرمین گواو گوانگ چانگ حراست میں ہونے کی وجہ سے عوامی سطح پر دکھائی نہیں دے رہے۔ اُن پر لگے کرپشن چارجز کے بارے میں اُن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

جمعے کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق چین کی بڑی نجی کمپنیوں کے گروپ فوسن میں شامل تمام کمپنیوں کے حصص کو معطل کر دیا گیا ہے اور اس جائنٹ گروپ کے چیئر مین گواو گوانگ چانگ کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت انکوائری کے لیے پولیس نے جمعرات کو شنگھائی ایئر پورٹ سے حراست میں لیا تھا۔ چین کی ایک بزنس میگزین Caixin کے رپورٹر نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے جانے والے پیغامات کے حوالے سے بتایا کہ گوانگ چانگ کو شنگھائی ایئر پورٹ سے حراست میں لیا گیا ہے تاہم اُس نے یہ نہیں کہا کہ وہ خود کسی تفتیشی کارروائی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں یا وہ کسی چھان بین کی کارروائی میں معاونت کر رہے ہیں۔

اُدھر چین کی سرکاری نیوز ایجنسی شنہوا کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ،’’ بہت سے لوگ گوانگ چانگ کے لاپتہ ہونے کو حکام کی طرف سے چھان بین کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں‘‘۔

China Börse in Fuyang

چین کے بازار حصص میں اکثر افراتفری دیکھنے میں آتی ہے

اقتدار میں آنے کے بعد سے چینی صدر شی جن پنگ نے کرپشن کے خلاف انسداد دہشت گردی کی ایک وسیع مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس کے تحت ملک کی کئی نامور شخصیات قانون کے دائرے میں لائی جا چکی ہیں۔ ان میں سابق سکیورٹی چیف ژو یانگ کانگ سمیت بہت سے اہم نام ہیں۔ کئی ایک کو سخت تفتیشی عمل کا سامنا ہے۔

کرپشن کو کنٹرول کرنے کا یہ عمل ابھی تک حکمران کمیونسٹ پارٹی کے اندر تک محدود ہے۔ اس لیے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد پارٹی کے اندرونی حریف دھڑوں کی جنگ ہے اور طاقتور طبقہ اِسے بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔

اس طرح اگر گو او گوانگ چانگ کرپشن کے خلاف چھان بین کے اس سلسلے میں قانونی گرفت میں آ جاتے ہیں تو وہ چین کے پہلے انتہائی بڑے تاجر ہوں گے جو کرپشن کے سبب قانون کی جکڑ میں آئیں گے۔

China Pharmabranche Gesundheitsmarkt Gesundheitssystem

چینی صنعت کار صحت کے شعبے میں بھی بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں

چینی حکام نے اس سال کے اوائل میں مالیاتی سیکٹر میں بھی کرپشن کے خلاف وسیع پیمانے پر چھان بین کی مہم چلائی تھی، جس کی بنیادی وجہ مالیاتی منڈی میں قرضوں کے روز بروز پھولتے ہوئے غبارے کا پھٹنا تھا۔ اس رجحان کی بھی حکام کی طرف سے حوصلہ افزائی کی گئی تھی۔

فوسن گروپ چین کی نجی کاروباری کمپنیوں کا سب سے بڑا اشتراک ہے جسے فوسن انٹرنیشنل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے 50 ارب یوآن ($ 7.8 بلین ڈالر) کے خالص اثاثہ جات ہیں۔ یہ کمپنی یورپ اور شمالی امریکا میں جائیداد، خزانہ، دواسازی، اسٹیل اور تفریحی اشیاء کی صنعت ​​کے قدرے کمزور اثاثے انتہائی تیز رفتاری سے خریدنے سے گریز نہیں کرتی۔ بلومبرگ نیوز کے مطابق گواو گوانگ چانگ 5.6 ارب ڈالر کی مجموعی مالیت کے ساتھ چین کی 17 ویں سب سے امیر شخص ہیں۔

DW.COM