1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین کا اقتصادی بحران ’بھارت کے لیے موقع‘

چین کا اقتصادی بحران جہاں عالمی سطح پر اقتصادی افزائش کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چُکا ہے وہاں بھارت نے اس صورتحال س فائدہ اُٹھانے کی بھرپور کوششیں شروع کر دی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آج منگل آٹھ ستمبر کو بھارت کے چوٹی کے بینکاروں اور عرب پتی تاجروں کو اپنی رہائش پر مدعو کیا جس کا مقصد بھارتی اقتصادیات کو زیادہ سے زیادہ مستحکم کرنے کے لیے اہم اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ ان میں بھارت کے امیر ترین شہری مُکیش امبانی، بھارتی وزیر مالیات ارون جیٹلی، بھارت کے مرکزی بینک کے گورنر رگھو رام راجن اور ماہرین اقتصادیات سمیت سرکاری اور نجی بینکوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

اس اعلیٰ سطحی اجتماع کے موقع پر ایسوسی ایٹڈ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری آف انڈیا ASSOCHAM کا کہنا تھا کہ بھارت کو عالمی اقتصادی جھٹکوں سے بچانے کے لیے اسے ’بُلٹ پروف‘ بنانا ہوگا۔ اس کے علاوہ سود کی شرح میں واضح کمی اور چینی مصنوعات جیسا کہ اسٹیل کی ڈمپنگ روکنے کے لیے ڈیوٹیز لاگو کرنا ہوں گی۔

2013 ء سے بھارت کی مجموعی اقتصادی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے۔ اس کی ایک بہت بڑی وجہ درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں کمی بنی ہے۔ 2013 ء سے پہلے دنیا کی اس تیسری سب سے بڑی معیشت میں افراط زر کی شرح دس اور دس سے اوپر تھی جو اب گر کر آدھی ہو گئی ہے۔

Mukesh Ambani, Industrialist, Indien

بھارت کا امیر ترین شخص مکیش امبانی

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ اس وقت عالی منڈی میں بھارتی معیشت کا مستقبل روشن دیکھ رہا ہے۔ جیسے جیسے چین سے زر کا بہاؤ بیرونی دنیا کی طرف بڑھ رہا ہے ویسے ویسے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے یہ جنوبی ایشیائی ریاست زیادہ سے زیادہ پُر کشش بنتی جا رہی ہے۔ تاہم چینی بحران کو اپنے اقتصادی مفاد کے لیے استعمال کرنے کا عمل بھارت کے لیے سہل نہیں ہوگا کیونکہ سرمایہ کاروں اور کاروباری حلقے میں اس امر پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ مودی برسر اقتدار آنے کے بعد سے اب تک ملکی اقتصادیات کو تیز رفتار بنانے کے لیے ضروری تیز رفتاری کا مظاہرہ نہیں کر پائے ہیں۔ اس سال جون کے ماہ تک بھارتی اقتصادی شرح نمو سات فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

ایک امریکی سرمایہ کار جم راجرز نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ’’نریندر مودی ایک کامیاب ریاست کو چلا رہے ہیں۔ دو سال تک وہ ایک مہم یہ کہہ کر چلاتے رہے کہ انہیں معلوم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ وہ 15 ماہ سے سب سے بڑی اکثریت کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں تب بھی اب تک کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہوا ہے‘‘۔ راجرز نے حال ہی میں اپنی بھارتی سرمایہ کاری کو فروخت کر دینے کا اعلان کیا ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں بھارت میں نریندر مودی کی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ’ لینڈ ریفارم‘ سے متعلق ایک قانون کے خلاف ملک بھر کے کسانوں نے تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا اور اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے ٹیکس میں اضافے کی اسکیم میں تاخیر بھی عمل میں لائی گئی۔ اس کے بعد سے مودی حکومت سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ وہ جلد نئے اقدامات کرے گی جو غیر ملکی سرمائے کو بھارت کی طرف کھینچنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔

DW.COM