1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین کا افریقی ممالک کو دس بلین ڈالر کا قرضہ

چین، براعظم افریقہ میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بیجنگ حکومت کئی افریقی ملکوں کو خام مال ، توانائی اور سیاسی شعبوں میں بھرپور تعاون فراہم کر رہی ہے

default

چینی وزیراعظم وین جیا باو نے افریقی ممالک میں تعمیر و ترقی اور سماجی بہبود کے لئے دس ارب ڈالر کے نئے قرضے دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ

China-Africa Cooperation Forum on کی افتتاحی تقریب میں پچاس افریقی مملاک کے سربراہاں سےخطاب کے دوران کیا۔ یہ رقم اگلے تین سالوں کے دوران ان افریقی ممالک میں تقسیم کی جائے گی۔ چین سال دوہزر چھ میں بیجنگ میں منعقدہ دوطرفہ تعاون کے اس فورم میں افریقی ممالک کے لئے پانچ بلین ڈالر کے قرض کا اعلان پہلے ہی کرچکا ہے چین ناقدین کی اس بات کو مسترد کرتا آیا ہے کہ افریقی ممالک سے بڑھتے تعلقات کے پیچھے وہاں موجود توانائی کے ذرائع کا حصول ہے۔ مغربی ممالک افریقہ میں چین کے بڑھتے ہوئی دلچسپی کا بہت غور سے جائزہ لے رہے ہیں۔

تیزی سے صنعتی ترقی کی راہ پر گامزن ملک چین کی افریقہ میں دلچسپی کا آغاز90 کی دہائی کے وسط میں ہوا۔ اب صورتحال یہ ہےکہ تقریباً ہر افریقی ملک میں چین کی موجودگی دیکھی جا سکتی ہے جہاں چینی سرمایہ کاری اربوں ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ چینی کمپنیوں کی جانب سے افریقہ میں کان کنی، توانائی سے متعلق دیگر شعبوں اور انفراسٹرکچر سے متعلق منصوبوں میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

Unruhen in Südafrika

چینی حکومت آمرانہ طرز حکومت کے افریقی ممالک سے بھی تعاون کررہی ہے۔

وین جیا باؤ نے ان الزمات کی تردید کی کہ چین صرف توانائی کے حصول کے لئے افریقی ممالک سے تعاون کررہا ہے۔ جرمنی کی لائپزگ یونیورسٹی میں افریقی علوم کے ماہر پروفیسر ہیلمٹ آشے کہتے ہیں کہ چین کی سب سے زیادہ دلچسپی معیشی شعبے میں ہے۔ ان کے بقول افریقہ میں چین کی دلچسپی صرف تیل، معدنیات ، کوپر اور المونیم وغیرہ میں نہیں بلکہ اس کے اپنے معیشی مفادات بھی ہیں۔ بیشک معدنیات کے ساتھ ساتھ چین کو افریقی منڈی کی بھی ضرورت ہے۔

ٹیلی وژن ، ریڈیو، ہویا ملبوسات ، چین افریقہ کے لئےخصوصی طورپر کم قیمت سامان تیار کرتا ہے۔ چینی کمپنیاں کئی افریقی ملکوں میں سڑکیں، ریلوے لائن اور ہوائی اڈے تعمیر کر رہی ہیں۔ 2004ء سے 2008ء کے چین اور افریقہ کے درمیان تجارتی حجم چار گناہ بڑھ گیا ہے۔ مبصرین کے بقول چین صورتحال سے کچھ سیاسی مفادات بھی حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر اسے اقوام متحدہ میں افریقہ کے بہت سے ممالک کا ساتھ رہے۔

BdT China Modemesse in Peking

چین سے الیکٹرونکس اور گارمنٹس کی مختلف کم قیمت اشیاء افریقہ برآمد کی جارہی ہیں۔

چین۔ افریقہ تعلقات میں البتہ سب سے زیادہ جس امرکو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ بیجنگ حکومت کئی افریقی ممالک میں آمروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔ جیسا کہ سوڈان اور زمبابوے۔ گزشتہ ماہ ہی چین کی ایک کمپنی نے گینی میں معدنیات کی تلاش کے حوالے سات ارب ڈالر کا ایک معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے سے چند روز قبل ہی گپنی کی فوجی حکومت نے ایک مظاہرے کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا تھا ، جس میں بڑے پیمانے پر خونریزی ہوئی تھی۔

برلن میں ایک تحقیق ادارے سے منسلک ڈینس تل کہتے ہیں کہ اس طرح کی حکومتوں کے ساتھ چین کے تعاون کو تنقید کا نشانہ بننا غیر معمولی بات نہیں۔ ان کے بقول چینی حکومت بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ کے حوالے سے بہت فکر مند ہے۔جب بھی اس حوالے سے ان پر تنقید کی جاتی ہے تو چین کی جانب سے فوری رد عمل سامنے آتا ہے۔ یہ تنقید مغربی ملکوں کے سا تھ بہت سے افریقی مملکوں کی جانب سے بھی کی جاتی ہے۔

یہ بات ابھی نہیں کہی جا سکتی کہ افریقہ اور کتنے عرصے تک چینی اقدامات سے فائدہ اٹھا سکے گا۔ چین کی افریقہ آمد سے وہاں کی مقامی منڈی کو شدید خطرات بھی لاحق ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ ملبوسات کےشعبے کو ہے، جہاں بڑے پمانے پر لوگ بے روز گارو ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحٰق