1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین: پیوند کاری کے لیے نکالے گئے اعضاء ضائع چلے جاتے ہیں؟

چین میں انسانی اعضاء کی پیوند کاری کے معاملے میں حیران کر دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق عطیہ کیے جانے والے زیادہ تر انسانی اعضاء ضائع چلے جاتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں چین کے سرکاری ٹیلی وژن کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ چین میں پیوند کاری کے لیے عطیہ کیے جانے والے تقریباً تمام اعضاء استعمال میں نہیں لائے جا رہے۔ چین میں کئی برسوں سے اس الزام کے حوالے سے بھی تنازعہ بھی جاری ہے کہ موت کے سزا کے بعد مجرموں کے جسموں سے ان کے اعضاء نکال لیے جاتے ہیں۔

بیجنگ یوتھ ڈیلی کے مطابق حکام کو توقع ہے کہ رواں برس ان کے پاس ایسے ڈھائی ہزار افراد ہیں، جو اپنے اعضاء عطیہ کرنے پر رضامند ہیں۔ بیجنگ یوتھ ڈیلی نے یہ اعداد و شمار ہاؤنگ جیفو کے حوالے سے بتائے ہیں، جو چین میں اعضاء کے عطیات جمع کرنے کی کمیٹی کے سربراہ ہیں اور جو وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ممکنہ طور پر ڈھائی ہزار دل اور پانچ ہزار گردے موجود ہیں۔

ہاؤنگ جیفو کے مطابق صورتحال کچھ ایسی ہے کہ رواں برس جنوری سے اب تک دل کی پیوند کاری کے صرف سو آپریشن ہوئے ہیں اور اسی طرح بہت کم ہی مریضوں کے گردے تبدیل ہوئے ہیں:’’ ایک جانب تو اعضاء کا فقدان ہے جبکہ دوسری جانب ان کا ضیاع ہو رہا ہے‘‘۔ اس اخبار کے مطابق اعضاء کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے نظام کی سست روی اور غیر مربوط اقدامات بھی اس ضیاع کی وجوہات ہیں۔

دوسری جانب اگر برطانیہ کی بات کریں تو وہاں تقریباً تین ہزار تین سو مریضوں کو انتقال کر جانے والے بارہ سو سے زائد افراد کے اعضاء سے فائدہ پہنچایا گیا ہے۔ چین میں جسمانی اعضاء عطیہ کرنے کا رجحان قدرے کم ہے کیونکہ 1.37 ارب کی آبادی والے ملک کے زیادہ تر شہری دوسرے جنم پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ مرنے کے بعد بھی ان کے تمام اعضاء جسم میں ہی رہیں۔ تاہم دوسری جانب اعضاء کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے زبردستی عطیات لینے کا رجحان اور اعضاء کا غیر قانونی کاروبار بھی فروغ پا رہا ہے۔

بیجنگ حکومت نے رواں سال کے آغاز سے سزائے موت پانے والے افراد کے اعضاء استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کے بقول حکام یہ ظاہر کرتے ہیں کہ قیدی نے رضاکارانہ طور پر اعضاء عطیہ کیے ہیں۔