1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

چین : پیرالمپکس کا اختتام

چین میں بارہ روز تک جاری رہنے والے پیرالمپکس چین ہی کی برتری کے ساتھ ختم ہوگئے۔ بین االاقوامی پیرا لمپکس کمیٹی کے سربراہ فلف کریوان نے معزور کھلاڑیوں کیلئےشاندار انتظامات کرنے پر بیجنگ حکومت کی کوششوں کی تعریف کی ۔

default

بیجنگ اولمپکس کی طرح پیرا لمپکس میں بھی برتری میزبان ملک چین کے کھلاڑیوں کے حصے میں آئی۔یوں جیسے چین پہلے اولمپکس اور پھر پیرا لمپکس کے کامیاب انعقاد پر دہری مبارکباد کا مستحق ٹہرا۔بدھ کے روز دنیا بھر کی نظریں ایکبار پھر بیجنگ میں پرندے کے گھونسلے کی طرز پر بنائے گئے برڈز نیسٹ نیشنل اسٹیڈئم پر لگی تھیں جہاں معزور افراد کے اولمپک مقابلوں کی بہت خوبصورت اختتامی تقریب منعقد کی گئی ۔

ان مقابلوں میں چین نے نواسی طلائی اور مجموعی طور پر دو سو گیارہ تمغے جیت کر پہلی، برطانیہ بیالیس طلائی اور مجموعی طور پر ایک سو دو تمغے جیت کر دوسری جبکہ امریکہ چھتیس طلائی اور مجموعی طور پر نناوے تمغے جیت کر تیسری پوزیشن پر رہا۔

پاکستان کے تین رکنی دستے میں سے حیدر علی ،لانگ جمپ کے مقابلے میں اپنے ملک کیلئے چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے البتہ پاور لفٹنگ کے مقابلوں میں حصہ لینے والے پاکستانی کھلاڑی نوید احمد بٹ پر ڈوپ ٹیسٹ میں ان کی ناکامی کے بعد دو سال کیلئے پابندی لگادی گئی۔ انٹرنیشنل پیرا لمپکس کے چیف فلیپ کریوان نے چینی کھیلوں کے ان مقابلوں کیلئے بہترین انتظامات کرنے پر تعریف کی اور ان اولمپک مقابلوں کو بہت شاندار قراردیا ۔

China Paralympische Spiele Eröffnungsfeier

ان کے بقول پیرا لمپکس کےمقابلے بڑی حد تک ڈوپنگ سے پاک رہے جیسا کہ ان مقابلوں سے قبل لئے گئے کھلاڑیوں کے ایک ہزار ڈوپنگ نمونوں کے نتائج سے ثابت بھی ہوا ۔کریوان نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ذہنی طور پرمعذور افراد کو دو ہزار بارہ کے لندن میں ہونے والے پیرالمپکس میں پھر سے شامل کیا جاسکتا ہے جنہیں سن دو ہزار کے سڈنی اولمپکس کے بعد سے ان مقابلو‍ں میں شامل نہیں کیا جارہا۔

چین کے صدر ہوجن تاؤ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان مقابلوں میں چین کی برتری سے چین میں موجود تراسی ملین سے زائد معزور افراد کی اچھے انداز میں نمائندگی ہوئی ہے۔ پیرا لمپکس کے دوران، خاص کر تیراکی کے مقابلوں میں شائقین کی دلچسپی بالکل ایسی ہی برقرار رہی جیسے کہ بیجنگ اولمپکس کے دوران رہی تھی۔چین کی حکومت نے ان مقابلوں کے دوران میدان کے اندر بہترین انتظامات کرنے کے ساتھ ساتھ میدان کے باہر کے علاقوں میں بھی بہترین ماحول یقینی بنانے کیلئےاقدامات کئے تھے۔