1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین پاکستان میں دو نئے ایٹمی ری ایکٹر لگائے گا

چین نے پاکستان میں دو نئے ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق چینی کمپنیاں650 میگاواٹ کے یہ ایٹمی ری ایکٹر پاکستان کے پنجاب صوبے میں چشمہ کے مقام پرلگائیں گے۔

default

پاکستان میں توانائی کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے

اس سے قبل بھی چین نے چشمہ کے مقام پرہی سن1991ء اور پھر سن 2005ء میں دو ایٹمی ری ایکٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا۔ سن 2005 ء کا منصوبہ آئندہ سال تک مکمل ہو جائے گا۔

چین کی قومی ایٹمی کارپوریشن کی ویب سائٹ پر شائع کردہ ایک بیان کے مطابق دونوں ممالک، رواں سال فروری میں اس منصوبے پر متفق ہوگئے تھے۔

اخبار ’فائنانشل ٹائمز‘ نے پاکستانی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دوست ملک چین نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی مدد کی ہے اور یہ کہ اِن ایٹمی ری ایکٹروں کی وجہ سے پاکستان توانائی کے شدید بحران پر قابو پانے کے قابل ہو سکے گا۔ اخبار مزید لکھتا ہے:’’چین نے پاکستان کو ایٹمی توانائی کی صنعت میں بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے۔‘‘

ماہرین کا خیال ہے کہ سول ایٹمی توانائی کو درآمد کرنے کے حوالے سے چین ایک بڑا ملک بننا چاہتا ہے۔

امریکہ کے ایک تھنک ٹنیک ادارے سے وابستہ مارک ہبس کے مطابق چین نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ غیر عسکری ایٹمی توانائی کے حوالے سے پاکستان کی مدد کرے گا۔ ان کے خیال میں بھارت اور امریکہ کے مابین نیکولیئر ڈیل کے تناظر میں چین سیاسی اعتبار سے پاکستان کو تنہا سمجھ رہا ہے۔ ہبس نے مزید کہا کہ چین اور پاکستان کے مابین ایٹمی ڈیل پرامریکہ مخالفت نہیں کرے گا۔

ادھر اسلام آباد میں موجود ایک غیر ملکی سفارت کار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک چین پاکستان کو ایٹم بم مہیا نہیں کرتا، تب تک امریکہ ان دونوں ممالک کے مابین ہونے والے کسی بھی معاہدے پر تنقید نہیں کرے گا۔

دریں اثناء اس وقت پاکستان توانائی کے شدید ترین بحران سے گزر رہا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: گوہر نذیر گیلانی

DW.COM