چین، پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ مذاکرات | حالات حاضرہ | DW | 22.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین، پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ مذاکرات

چین کے دارالحکومت بیجنگ میں اگلے ہفتے چینی، افغان اور پاکستانی وزرائے خارجہ ملاقات کریں گے۔ ان سہ فریقی مذاکرات ميں علاقائی سکیورٹی اور ترقیاتی امور پر گفتگو کی جائے گی۔

جرمن نیوز ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق 26 دسمبر کو تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ بیجنگ میں ملاقات کریں گے۔ چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق  پہلی مرتبہ تنیوں ممالک مل کر اس مذاکراتی عمل کا آغاز کر رہے ہیں۔ پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسر وینگ لیان کا کہنا ہے،’’ افغانستان میں بدامنی کے حوالے سے  پاکستان اور چین دونوں کو خدشات ہیں اور اس مذاکراتی دور میں افغانستان میں امن کی بحالی کے حوالے سے گفتگو کی جائے گی۔‘‘

چین خطے میں انسداد دہشت گردی کے میکانزم کی تیاری میں مصروف

پاکستانی قربانیوں کا احترام کیا جائے، چین

کئی دہائیوں سے جنگ سے نبردآزما افغانستان کو اب بھی طالبان شدت پسندوں اور دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے۔ وینگ لیان کا کہنا ہے،’’ چین اور پاکستان کو افغانستان کے اندرونی مصالحتی عمل اور  ملک کی تعمیر نو کے حوالے سے بھی تحفظات ہیں۔‘‘

Afghanistan Kämpfe gegen IS und Flucht von Zivilisten (DW/Omid Deedar)

26 دسمبر کو تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ بیجنگ میں ملاقات کریں گے

وینگ نے مزید کہا، ’’افغانستان کی اقتصادی ترقی کے نتيجے ميں اس ملک کا مستقبل بہتر ہو سکتا ہے۔‘‘ پاکستان اور افغانستان کی سرحد چین کے صوبے زن یانگ کے ساتھ ملتی ہے۔ بیجنگ کو خدشہ ہے کہ اس  صوبے میں شدت پسندی کا مسئلہ مستقبل  میں بڑھ سکتا ہے۔ چینی صدر زی جن پنگ کہہ چکے ہیں کہ وہ چین کے اس صوبے کی سرحد پر ایک دیوار قائم کرنا چاہتے ہيں تاکہ عسکریت پسندوں کو چین میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

DW.COM