1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین نے پاکستان کے ساتھ ایٹمی معاہدے کا دفاع کیا

بیجنگ حکام نے اسلام آباد کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے اسے پر امن قرار دیا ہے۔ امریکہ نے پاک، چین نیوکلیئر ڈیل کے حوالے سے بیجنگ حکومت سے وضاحت طلب کی تھی۔

default

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان کن گینگ نے جمعرات کو نامہ نگاروں کو بتایا کہ چین اور پاکستان نے حالیہ برسوں میں غیر عسکری شعبے میں جوہری توانائی کے استعمال کے سلسلے میں تعاون جاری رکھا ہے۔ جب چینی وزارت خارجہ کے ترجمان سے چین، پاک نیوکلیئر ڈیل پر امریکی رد عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بیجنگ اور اسلام آباد کے درمیان ایٹمی معاہدہ بین الاقوامی قواعد و ضوابط کے عین مطابق ہے اور بالکل پر امن بھی۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے یقین دلایا کہ پاک، چین سول نیوکلیئر ڈیل ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے IAEA کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔

Pakistan Taliban Krieger im Swat-Tal

وادی ء سوات میں طالبان کا ایک مقامی کمانڈر

پاکستان میں طالبان اور دیگر عسکریت پسندوں کی موجودگی کے خدشات کے باوجود چین کی نیشنل نیوکلیئر کارپوریشن پنجاب صوبے میں دو غیر عسکری ایٹمی ری ایکٹرز کی تعمیر پر سرمایہ لگانے کے لئے راضی ہوگئی ہے۔ اس سلسلے میں ایک معاہدہ اسی سال طے پایا تھا۔

منگل کے روز امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان فلپ کراوٴلی نے رپورٹرز کو بتایا تھا کہ واشنگٹن چین سے پاکستان کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی تفصیلات کی وضاحت چاہتا ہے۔ کراوٴلی نے کہا کہ کسی بھی ایٹمی ڈیل کے لئے نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی منظوری لازمی ہے۔

چین سن 2004ء میں نیوکلیئر سپلائرز گروپ میں شامل ہوگیا تھا۔ اس گروپ میں ایٹمی طاقت کے حامل چھیالیس ممالک شامل ہیں۔ نیوکلیئر سپلائرز گروپ کا صدر دفتر ویانا میں قائم ہے۔ اس ادارے کی ذمہ داریوں میں ایٹمی سامان اور ٹیکنالوجی کی تجارت اور معاہدوں پر نظر رکھنا ہے۔ اس گروپ کو یہ بات بھی یقینی بنانا ہوتی ہے کہ جوہری سامان صرف اور صرف پرامن مقاصد کے لئے ہی استعمال ہو۔

واضح رہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان سول نیوکلیئر ڈیل کے بعد سے چین اور پاکستان کی نزدیکیاں اور بھی بڑھ گئی ہیں، جس سے امریکہ کو تشویش لاحق ہوگئی ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM