1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چین نے سپر کمپیوٹر بنا لیا

چین نے دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر یعنی سپر کمپیوٹر بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کی پروسیسنگ سپیڈ 2.5 ہزار ٹرلین فی سیکنڈ ہے۔ یوں اس کمپیوٹر نے امریکی سپرکمپیوٹر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

default

چین کا کہنا ہے کہ اس کا Tianhe-1A دنیا کاتیز ترین سپرکمپیوٹر ہے۔ اس کی کیلکولیشن سپیڈ 2.5 ہزار ٹرلین فی سیکنڈ ہے۔ اس سے پہلے جون میں جاری کی گئی عالمی فہرست میں اسے ساتویں نمبر پر رکھا گیا تھا، تب اس کی پروسیسنگ سپیڈ 1.76 ہزار ٹرلین فی سیکنڈ بتائی گئی تھی۔

تاہم اب چین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس سپر کمپیوٹر کی رفتار کہیں زیادہ ہے اور یہ دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر بن گیا ہے۔

سپرکمپیوٹر کا چین کے سرکاری محکموں میں تجربہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق محکمہ موسمیات اور تیل و کان کنی کے شعبوں نے اس کمپیوٹر کی مدد لینا شروع کر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حیاتیاتی سائنس کے میدان میں بھی اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سپرکمپیوٹر نامی اس مشین کے پروسیسر فریج کے سائز کے سو سے زائد خانوں میں رکھے گئے ہیں، جن کا مجموعی وزن 155 ٹن ہے۔ اسے تیان جن میں چین کے نیشنل سینٹر برائے سپر کمپیوٹنگ میں رکھا گیا ہے۔

سپر کمپیوٹر کا حقیقی استعمال اعلیٰ درجے کے ہتھیار بنانے میں بھی ہوتا ہے۔ میزائل، جوہری بم اور دیگر اقسام کے ہتھیاروں کے جائزے اور ترتیب میں یہ کمپیوٹر کئی طرح کی آسانیاں فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے پتا لگایا جاتا ہے کہ درجہ حرارت میں ایک ڈگری کا فرق آنے پر میزائل کے طرز عمل میں کیا فرق پڑے گا۔ یوں تحقیق کے اعلٰی پہلوؤں کو چھونے کے لئے سپر کمپیوٹر کی مدد لی جاتی ہے۔

اس کمپیوٹر کی ٹیکنالوجی میں آگے نکلنے کی دوڑ کئی ممالک کے درمیان ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جس ملک کے پاس سب سے تیز کمپیوٹر ہوتا ہے وہ دوسرے سے ٹیکنالوجی کے معاملے میں آگے نکل سکتا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس