1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چین نے دنیا کا تیز ترین سُپر کمپیوٹر بنا لیا

حال ہی میں چین نے ایک ایسا سُپر کمپیوٹر بنایا ہے جسے اب تک کا دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر قرار دیا جا رہا ہے۔ ماضی کے برعکس اس کمپیوٹر میں پہلی مرتبہ چین ہی میں تیار کردہ پروسیسر استعمال کیا گیا ہے۔

رپورٹوں کے مطابق مکمل طور پر چین میں بنائے گئے ایک نئے سُپر کمپیوٹر کو دنیا کے تیز ترین کمپیوٹرز کی لسٹ میں سرفہرست رکھا گیا ہے۔ اس کمپیوٹر کا پروسیسر بھی چین ہی میں بنایا گیا ہے، چینی کمپیوٹرز میں میں اس سے قبل امریکی پروسیسر استعمال کیے جاتے تھے۔

جرمنی اور امریکی محققین کی ایک ٹیم، جو دنیا کے سب سے تیز کمپیوٹرز کی لسٹ TOP500 تیار کرتی ہے، نے آج بیس جون بروز پیر جاری کردہ اپنی نئی فہرست میں بتایا ہے کہ کمپیوٹر انجینیرنگ کے بارے میں چین کے نیشنل ریسرچ سینٹر کی جانب سے تیار کیا گیا Sunway TaihuLight نامی کمپیوٹر رفتار کے اعتبار سے دنیا کا تیز ترین کمپیوٹر ہے۔

دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ پچھلے چھ سال تک مسلسل تیز ترین کمپیوٹرز میں سرفہرست رہنے والا Tianhe-2 نامی کمپیوٹر بھی چین ہی میں تیار کیا گیا تھا۔ تاہم اس میں استعمال ہونے والا پروسیسر امریکی کمپنی ’اِنٹل‘ کا تیار کردہ تھا۔

سُپر کمییوٹر بنانے میں امریکا کئی دہائیوں سے سرفہرست چلا آ رہا ہے۔ یہ سپرکمپیوٹر موسم کی پیش گوئی کرنے اور ایٹمی ہتھیار ڈیزائن کرنے سمیت کئی دیگر شعبوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔

موجودہ تاریخ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ تیز ترین کمپیوٹرز کی فہرست میں چین نے مجموعی طور پر بھی امریکا کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ TOP500 فہرست میں اس برس چین میں بنائے گئے 167 کمپیوٹر شامل ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں اس مرتبہ 165 امریکی کمپیوٹر اس فہرست میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے۔

فہرست تیار کرنے والے محققین نے چین کی اس تیز رفتار ترقی کے بارے میں لکھا ہے، ’’دس سال پہلے اس فہرست میں محض 28 چینی سُپر کمپیوٹرز شامل تھے جن میں سے کوئی بھی پہلے 30 تیز ترین کمپیوٹرز میں شامل نہیں ہو سکا تھا۔ اس امر سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین نے کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت سُپر کمپیوٹرز کے شعبے میں انتہائی تیز رفتاری سے ترقی کی ہے۔‘‘

DW.COM