1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین نے تبتیوں کی گرفتاری کے لئے نیپال کو رقوم دیں، سفارتی کیبلز

وکی لیکس کی جانب سے جاری کئے گئے امریکہ کے خفیہ سفارتی پیغامات سے پتہ چلا ہے کہ چین نے تبت کے شہریوں کی گرفتاری کے لئے نیپالی حکام کو رقوم ادا کی تھیں۔ اس کا مقصد تبتیوں کو دلائی لامہ تک پہنچنے سے روکنا تھا۔

default

امریکی سفارتی پیغامات سے انکشاف ہوا ہے کہ نیپال میں ان گرفتاریوں کے نتیجے میں بھارتی علاقے دھرم شالہ جانے والے تبتیوں کی تعداد کم ہوئی ہے، جو وہاں قیام پذیر اپنے جلاوطن روحانی پیشوا دلائی لامہ کی وجہ سے اس پہاڑی علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

سفارتی کیبلز کے مطابق یہ بات کم از کم دو نامعلوم عہدیداروں نے ایک امریکی پولیٹیکل آفیسر کو بتائی تھی۔ ان کا کہنا تھا، ’بیجنگ حکام ان نیپالی آفیسرز کو نقد رقوم سے نوازتے ہیں، جو نیپال کے راستے دھرم شالہ جانے کی کوشش کرنے والے تبتیوں کو گرفتار کر کے چینی حکام کے حوالے کرتے ہیں۔‘

یہ سفارتی پیغام 22 فروری کو واشنگٹن بھیجا گیا تھا، جس میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ سالانہ ڈھائی ہزار سے ساڑھے تین ہزار افراد تبت سے دھرم شالہ جاتے ہیں، جن میں سے بیشتر اپنے رہنما دلائی لامہ کی قیادت میں ہونے والے اجتماعات میں شرکت کے بعد واپس تبت لوٹ جاتے ہیں۔

اس پیغام میں یہ بھی بتایا گیا کہ مارچ 2008ء کے بعد نیپال کے راستے بھارت کا سفر کرنے والے تبتیوں کی تعداد خاصی کم ہوئی ہے۔ اپریل 2008ء سے مارچ 2009ء تک دھرم شالہ کے استقبالیہ مرکز میں تبت کے تقریباﹰ 650 مہاجرین کا اندراج کیا گیا۔

Dalai Lama Frankfurt Flash-Galerie

دلائی لامہ

سفارتی کیبلز کے مطابق بیجنگ حکام نے کٹھمنڈو حکومت سے کہا تھا کہ تبتیوں کے نیپال میں داخلے کو مشکل بنانے کے لئے بارڈر فورس کا گشت بڑھا دیا جائے۔ دوسری جانب سفارتی پیغام میں جن دو نامعلوم عہدیداروں کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے ایک نے یہ بھی کہا کہ دھرم شالہ کی جانب تبتیوں کا سفر ایک مرتبہ پھر معمول پر آ جائے گا۔ ان عہدیداروں کا کہنا تھا، ’رواں برس گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تبتی دھرم شالہ پہنچ رہے ہیں۔‘

خیال رہے کہ تبت کے تقریباﹰ 20 ہزار شہری نیپال میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ مہاجرین کے ساتھ برتاؤ کے حوالے سے کٹھمنڈو حکومت کو اقوام متحدہ کی تنقید کا سامنا بھی رہتا ہے۔ تاہم خبر رساں ادارے ڈی پی اے نے ذرائع کے حوالے سے توقع ظاہر کی ہے کہ نیپال تبت کے پناہ گزینوں کو قانونی دستاویزات کے بغیر اپنی سرزمین کے راستے بھارت میں داخل ہونے کی اجازت دے دے گا۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس