1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین نے اپنا الگ امن انعام جاری کر دیا

چین کے ایک گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ امن نوبل انعام کے مقابلے پر کنفیوشس امن انعام کا انعقاد کرے گا۔ اس تقریب کا انعقاد امن نوبل انعام کی تقریب سے ایک دن قبل یعنی نو دسمبر کو کیا جا رہا ہے۔

default

کنفیوشس امن انعام کےمنتظم Tan Changliu کے مطابق یہ انعام تائیوان کے سابق نائب صدر Lien Chan کو دیا جائے گا۔ گو کہ اس تقریب کے منتظم نے ان انعامات کے پیچھے موجود گروپ کے بارے میں تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ اس گروپ کا حکومت چین کے ساتھ کوئی رابطہ یا تعلق نہیں ہے۔

China: Ankunft des taiwanesischen Oppositionsführeres Lien Chan

چینی کنفیوشس امن انعام کا حقدار تائیوان کے سابق نائب صدر کو قرار دیا گیا ہے

Tanکا مزید کہنا تھا کہ تقسیم انعامات کی تقریب میں شرکت کے لئے تائیوان کے سابق نائب صدر سےرابطہ کیا جا چکا ہے تاہم ابھی ان کی جانب سے اس دعوت کو قبول یا مسترد کئے جانے کا کوئی اشارہ موصول نہیں ہوا ہے۔ دوسری جانب Lien کے ترجمان کے مطابق انہیں نہ تو اس انعام سے نوازے جانے کے فیصلے کی کوئی خبر ہے اور نہ ہی وہ اس پر کوئی تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔

تائیوان کے نائب صدر آج کل وہاں کی حکمران جماعت کے اعزازی صدر ہونے کے علاوہ بیجنگ اور تائیوان حکومت کے درمیان اُس دور میں رابطےکا کام بھی سر انجام دیتے رہے ہیں، جب ان دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر تعلقات میں تناؤ تھا۔

Tan کے مطابق اس انعام کے نامزد امید واروں میں جنوبی افریقہ کے نوبل انعام یافتہ سابق صدر نیلسن منڈیلا، سوفٹ ویئر کمپنی مائیکروسوفٹ کے بانی بل گیٹس اور تبت میں آج کل بدھ مت کے دوسرے بڑے رہنما پنچن لامہ شامل تھے۔ چین کی بدھ مت ویب سائٹ پر کئے گئے اعلان کے مطابق اس تقریب میں انعامی رقم ایک لاکھ یوآن یعنی پندرہ ہزار ڈالر کے مساوی رکھی گئی ہے۔

China / Hongkong / Liu Xiaobo

چین نے منحرف حکومتی نقاد لِیُو ژياؤبو کے حامیوں پر نوبل انعام تقریب میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے

واضح رہے کہ اس سال امن کا نوبل انعام چینی حکومت کے ناقد لِیُو ژياؤبو کو دیے جانے کے فیصلے کے خلاف حکومت چین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ چین نے احتجاجاً نہ صرف خود اوسلو میں جمعہ کے روز منعقد ہونے والےنوبل انعامات کی تقریب میں شرکت کا بائیکاٹ کیا ہے بلکہ دوسرے ممالک پر بھی بائیکاٹ کرنے کے لئے زور دے رہا ہے۔ چینی حکام نے لِیُو ژياؤبو کے حامیوں کو بھی سخت نتائج سے خبردار کیا ہے۔ اس تقریب میں شرکت سے روکنے کے لئے لِیُو ژياؤبو کی بیوی کو بھی ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے جبکہ خود 54 سالہ لِیُو ژياؤبو بغاوت کے الزام میں گزشتہ تین سال سے چین میں قید ہیں۔ ان کو 2008ء میں ملک میں جامع اصلاحات کے مطالبات پر مشتمل ’چارٹر آٹھ‘ نامی منشور کی اشاعت کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس منشور پر پروفیسر ژیاؤبو کی سرپرستی میں قریب 300 چينی دانشوروں اور علمی شخصيات نے دستخط کئے تھے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM