1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

چین نے ’آسمان کی آنکھ‘ تیار کر لی

چین نے ’آسمان کی آنکھ‘ یعنی دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو دور بین تیار کر لی ہے۔ اس کے ذریعے غیر ارضی زندگی اور خلاء کے پوشیدہ رازوں پر سے پردہ اٹھایا جائے گا۔ اس کی لاگت 180 ملین ڈالر ہے۔

اتوار کے روز چین میں تیار کی گئی دنیا کی سب سے بڑی ریڈیو دوربین کو لانچ کر دیا گیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ ایک ایسے منصوبے کا آغاز ہے، جس کے تحت انسانیت غیر ارضی زندگی کا سراغ لگا سکے گی۔

اس ریڈیو دوربین کا مختصر نام فاسٹ ہے جبکہ اس کا فرضی نام ’آسمان کی آنکھ‘ رکھا گیا ہے۔ اس کو بنانے کے لیے 1.2 ارب یوآن (180 ملین ڈالر) کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ دنیا کی اس سب سے بڑی ٹیلی اسکوپ کے تیار کرنے میں پانچ برس لگے ہیں۔

 چائینیز اکیڈمی آف سائنس کے محقق کیان لی کا چین کے بین الاقوامی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس دوربین کا اصل مقصد کائنات کے ارتقا کے حتمی قوانین کو دریافت کرنا ہے۔‘‘

اس سائنسدان کا کہنا تھا کہ اگر خلاء میں کہیں کوئی دوسری مخلوق موجود ہے تو اسے ریڈیو سگنلز کے ذریعے اس کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق اس دوربین کے ریفلیکٹر فٹ بال کے تیس میدانوں کے برابر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوبین کی محسوس کرنے کی صلاحیت دنیا کی تیسری بڑی دوربین آرسیبو سے دو گنا اور اس کی تجزیہ کرنے کی رفتار دس گنا زیادہ ہے۔

اس چینی دوربین کو پانچ کلومیٹر (3 میل) کے رداس کے اندر اندر ریڈیائی خاموشی کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وجہ سے چینی حکومت آٹھ دیہات کے تقریباﹰ دس ہزار افراد کو دوسری جگہ منتقل کیا ہے۔ جن افراد کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا ہے، انہیں حکومت کی طرف سے خصوصی مراعات دی گئی ہیں۔

ستمبر کے آغاز میں چین نے ملکی فوج کی حمایت سے ’ٹیانگونگ ٹو‘ نامی اسپیس اسٹیشن کا آغاز کیا تھا۔ اس کا مقصد مستقبل قریب میں مریخ پر مشن بھیجنا ہے۔

 

DW.COM