1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں کئی ویب سائٹس پر پابندی

چار جون کو چین میں جمہوری تحریک کو فوجی طاقت کے ذریعے کچلنے کے واقعے کو20 برس پورے ہو رہے ہیں۔ بیجنگ کی حکومت نے ملک کے زیادہ تر علاقوں میں انٹر نیٹ کی کئی ویب سائٹس تک عام شہریوں کی رسائی دو جون سے ہی بند کر دی ہے۔

default

چین میں کئی مشہور ویب سائٹس پر پابندی عائد کر دی گئی ہے

Twitterانٹر نیٹ کی ایک ایسی سوشل ویب سائٹ ہے، جس کو اس کے ارکان ایک دوسرے کے ساتھ فوری پیغام رسانی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہی ارکان اس ویب سائٹ پر اپنے خیالات تحریروں کی صورت میں ایک دوسرے کو بھی ارسال کرتے ہیں اور ایسی تحریریں Tweets کہلاتی ہیں۔

چینی حکومت کی طرف سے ایسے آن لائن سوشل نیٹ ورکس پر جزوی پابندی کے بعد ان کے استعمال کنندگان نے اس ریاستی اقدام پر شدید غصے اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔

بیجنگ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے ایک ماہرKaiser Kou کا کہنا ہے کہ چین میں ٹوئیٹر استعمال کرنے والے تمام سوشل گروپس یا کمیونیٹیز اس فیصلے پر سراپا احتجاج ہیں لیکن چینی انٹر نیٹ صارفین یہ بھی جانتے ہیں کہ حکومت جس بات کو سیاسی طور پر اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے،اس پر فوری طور پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

صرف Twitter ہی نہیں، انٹر نیٹ کی کئی دیگر ویب سائٹس، مثلاً ونڈو لائیو، ہاٹ میل، یاہو اور فلِکر کے صارفین نے بھی ان سائٹس تک رسائی میں مشکلات کی شکایت کی ہے۔شنگھائی میں Twitter ویب سائٹ استعمال کرنے والے ایک شہری نے کہا ہے کہ ایران میں حکام نے فیس بک نامی ویب سائٹ پر جبکہ چینی حکام نے ٹویئٹر پر پابندی لگائی تھی۔ اِس طرح چین اور ایران میں کوئی فرق نہیں ہے۔

چین میں تقریباً ساری ہی سوشل اور سیاسی ویب سائٹس کی بھر پور نگرانی کی جاتی ہے اور حکام اس کی وجہ ممکنہ خطرات کو روکنے کی ریاستی خواہش بتاتے ہیں۔ ابھی مارچ کے مہینے میں بھی ویڈیو ویب سائٹ Youtube کو چین میں اس وقت بند کر دیا گیا تھا، جب بیرون ملک تبتی جماعتوں کے ارکان نے سال 2008ء میں تبت میں احتجاجی مظاہروں کے دوران ریاستی طاقت کے بھر پور استعمال سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز جاری کر دی تھیں۔


بین الاقوامی سطح پر انٹر نیٹ کی یہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کتنی مقبول اور کامیاب ہیں، اِس کا اندازہ اس ایک مثال سے لگایا جا سکتا ہے کہ امریکی افواج نے Twitter ویب سائٹ پر ہی افغانستان میں جاری جنگ میں اپنی حکمت عملی کے نام سے باقاعدہ نیٹ ورکنگ شروع کر رکھی ہے۔ اسی طرح افغانستان میں امریکی فوجی دستے FaceBook پر دو ہفتے قبل اپنا ایک ذاتی Page شروع کر چکے ہیں اور Youtube پر بھی اسی جنگ کے حوالے سےویڈیوز جاری کی جاتی ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوج کے ایک ترجمان کرنل جولین نے بتایا کہ افغان جنگ کے حوالے سےتین اہلکاروں کا کام ہی یہی ہے کہ وہ Twitter، فیس بک اور یو ٹیوب پر مسلسل تازہ ترین معلومات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔