1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں پولیس کی طاقت میں اضافے کے نئے قوانین

چین میں پولیس کو کسی عام شہری کو خفیہ طور پر زیر حراست رکھنے کے حوالے سے قوانین میں مزید مضبوطی لائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں شبے کی صورت میں کسی شخص کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا جا سکے گا۔

default

پولیس کی طاقت میں اضافے کے لیے پرانے قوانین کو مزید دوام دینے کے بعد ملکی سلامتی کے لیے خطرہ تصور کیے جانے والے کسی بھی شہری یا اس کے اہل خانہ کو جرم بتائے بغیر نہ صرف حراست میں لیا جا سکے گا بلکہ اسے نامعلوم مقامات پر غیر معینہ مدت کے لیے رکھا بھی جا سکے گا۔ اس حوالے سے نئے قوانین کا مسودہ منگل کے روز سامنے آیا ہے۔ اس مسودے پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے انتہائی تشویش ظاہر کی ہے۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق چین کے فوجداری قوانین میں ان نئی ترامیم سے سکیورٹی اہلکاروں کو لا محدود اختیارات حاصل ہو جائیں گے کیوں کہ ’ملکی سلامتی کے لیے خطرہ‘ کسی بھی شخص کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ چین میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے متعدد سرگرم کارکنوں کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر طویل سزائیں سنانے کے واقعات عام ہیں۔

بیجنگ میں مقیم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ماہر قانون Jiang Tianyong کے مطابق، ’اگر یہ واقعی قانون بن چکا ہے، تو مجھ سمیت کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کے لیے درکار قانونی تقاضے بھی پورے کرنے کی کوئی خاص ضرورت نہیں رہے گی۔‘‘

Flash-Galerie / Audioslide Ai Weiwei und seine Kunstwerke bis April 2011

’پولیس کے اختیارات لامحدود ہو جائیں گے‘

Jiang Tianyong کو بھی اس سے قبل ایک مرتبہ حراست میں لیا گیا تھا اور وہ دو ماہ تک سکیورٹی اداروں کی قید میں رہے تھے اور اس دوران ان کے اہل خانہ سے ان کا ہر طرح کا رابطہ منقطع رہا تھا۔ رواں برس کے آغاز میں عرب میں جمہوریت کے لیے چلائی جانے والے عوامی تحریکوں کے بعد چین میں ایسے مظاہروں کی روک تھام کے لیے حکومت نے ایک کریک ڈاؤن کیا تھا۔ اس دوران انسانی حقوق سے وابستہ بے شمار لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت:  شامل شمس

 

DW.COM