1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں مائکرو بلاگنگ، حکومت کے لیے پریشانی

بیجنگ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ عوام میں انتہائی حد تک مقبول ’مائکرو بلاگنگ‘ پر گرفت مضبوط کی جائے گی تاہم ناقدین کے خیال میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والے ایک جم غفیر کو کنٹرول کرنا حکومت کے لیے مشکل ہو گا۔

default

ایک اعشاریہ تین بلین آبادی رکھنے والے ملک چین میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 485 ملین ہے۔ بیجنگ حکومت سنسر شپ کے تحت ایسے مواد کو بلاک کر دیتی ہے، جو اسے سیاسی نوعیت کا معلوم ہوتا ہے۔ اس صورتحال میں ’ویبو‘ weibos کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے حکومتِ چین کو پریشان کر دیا ہے کیونکہ اس قسم کی مائکرو بلاگنگ کو کنٹرول کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔

weibos ٹوئٹر کی طرح کی ایک سماجی ویب سائٹ ہے، جو دو سال قبل شروع ہوئی تھی۔ اس مختصر عرصے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مائکرو بلاگنگ کے ذریعے حکومت کے خلاف اپنے غصے کو نکالا۔ چینی عوام  ویبوزکے ذریعے حکومتی سطح پر ہونے والی بد عنوانی، مختلف اسکینڈلز اور ملک میں آنے والی آفات کے بارے میں ایسی اہم معلومات شائع کرتے ہیں، جو ملکی میڈیا کو دکھانے یا سنانے کی آزادی نہیں ہے۔

China Internet Cafe in Schanghai Frau mit Computer

چین میں انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 485 ملین ہے

پیکنگ یونیورسٹی کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے Hu  Young  کہتے ہیں،’ یہ وہ جگہ ہے، جہاں عوام کی رائے بنائی جاتی ہے‘۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ویبوزکو استعمال کرنے والوں کی تعداد 2011ء میں بڑھ کر تین گنا ہو گئی ہے۔ چین میں انٹر نیٹ کی دنیا کا ایک اہم نام  sina.com  کے بقول چینی عوام اس کے ویبوکو بےحد پسند کرتے ہیں اور اسے استعمال کرنے والوں کی تعداد 200 ملین ہو چکی۔

برکلے میں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا میں میڈیا اسکالر ژاؤ چنگ  کہتے ہیں کہ چین میں ویبوز نے عام انسانوں کو شکوے کے لیے زبان دے دی ہے اور وہ بڑی آسانی کے ساتھ جو بھی کہنا چاہیں کہہ لیتے ہیں۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح انفرادی سطح پر ہونے والی گفتگو اجتماعی خیال میں ڈھل جاتی ہے۔

ناقدین کے خیال میں مائکرو یا چھوٹی سطح کی بلاگنگ نے ملک کے روایتی میڈیا میں بھی ایک تحریک پیدا کی ہے۔ اس کی ایک مثال یوں بھی دی جاتی ہے کہ چین میں ہونے والے حالیہ ٹرین حادثے پر ملک کے بہت سے اخبارات نے حکومت پر تنقید کی تاہم  یہ الگ بات ہے کہ پروپیگنڈا وزارت نے انہیں خاموش کروا دیا۔

ژاؤ کے بقول اگرچہ ابھی بھی حکومت ملکی میڈیا کو بتاتی ہے کہ خبر کسے بنانی ہے تاہم نوجوان صحافی وہ مواد جو اخبار میں نہیں چھپنے دیا جاتا اور جو ریڈیو اور ٹیلی وژ ن میں جگہ نہیں پاتا، وہ انٹر نیٹ کے ذریعے ویبوز میں پہنچا دیتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کی ایک بڑی تعداد اسے دیکھ، پڑھ اور سن سکتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM