1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں قومی ترانے کی تعظیم نہ کرنے والے کے لیے سزا

چین میں قومی ترانے کی تعظیم نہ کرنے والے کو تین سال قید کی سزا سنائی جائے گی۔ اس تناظر میں نیشنل پیپلز کانگریس کی مستقل کمیٹی نے قانون کی منظوری دے دی ہے۔

چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق ملکی فوجداری قانون میں اس ترمیم کی منظوری نیشنل پیپلز گانگریس کے ایک اجلاس کے دوران دی گئی، ’’عام مقامات پر قومی ترانے کی بے توقیری کرنا قابل سزا جرم ہو گا، اس دوران سیاسی حقوق صلب کیے جا سکتے ہیں، مجرم کے طور پر حراست میں لیا جا سکتا ہے اور تین سال تک جیل میں بھی رہنا پڑ سکتا ہے‘‘۔

شنہوا کے مطابق تین سال کی سزا صرف انتہائی سنجیدہ خلاف ورزی کے واقعات میں دی جائے گی تاہم اس کی  وضاحت نہیں کی گئی۔ چین میں قومی ترانے کی تعظیم کے قانون کے مطابق ’’مارچ آف وولنٹیئرز یعنی رضاکاروں کے مارچ  نامی یہ ترانہ عوامی مقامات پر اب پس منظر موسیقی کے طور پر نہیں بجایا جا سکے گا اور نجی سطح پر اس ترانے پر غیر مناسب پرفارمنس دینے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔‘‘

  بیجنگ حکام  کے مطابق چین کے ساتھ ساتھ ہانگ کانگ اور مکاؤ میں بھی قومی ترانے کے احترام کے اس قانون پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اسی تناظر میں نیم خود مختار علاقے ہانگ کانگ کی حکومت نے بھی اس قانون کو اپنے ہاں نافذ کرنے کی حامی بھر ی ہے، ’’ہانگ کانگ کی سطح پر کچھ ترامیم کرتے ہوئے پارلیمان سے منظور کرانے کے بعد اس لاگو کیا جائے گا۔‘‘

خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہو گا، چینی صدر

شی جن پنگ کا تصور اب جامعات میں پڑھایا جائے گا

تائیوان میں تحریک آزادی کچل دیں گے، چینی صدر کا انتباہ

 ہانگ کانگ میں گزشتہ دنوں ہونے والے فٹ بال میچوں کے دوران شائقین نے اُس موقع پر شدید شور شرابا کیا اور سیٹیں بجائیں، جب چینی ترانہ بجایا جا رہا تھا۔ ہانک کانگ کے کئی حلقے اس قانون کو ہانگ کانگ پر چینی اثر و رسوخ اور تسلط بڑھانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ ترانہ 1935ء میں اس وقت لکھا گیا تھا، جب ابھی کمیونسٹ پارٹی چین میں صاحب اقتدار نہیں تھی تاہم اس کے بعد 1982ء میں اسے باقاعدہ طور پر اپنایا گیا۔

 

ویڈیو دیکھیے 02:28

’چین میں روشنیوں کا سیلاب‘

DW.COM

Audios and videos on the topic