1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں قتل عام کی وارداتیں ، عام

چین میں گزشتہ دو مہینوں میں قتل عام کی کئی بڑی وارداتیں منظرعام پرآئی ہیں۔ پچھلے چند ماہ کے دوران چینی اسکولوں میں چھ حملوں میں کم ازکم 16معصوم بچے اور تین بالغ افراد ہلاک کردئے گئے۔ ان حملوں میں 70 زخمی بھی ہوئے۔

default

حالیہ فائرنگ میں ہلاک ہونے والے ایک بچے کی ماں

چینی صوبے فوجیان میں پہلا حملہ 23 مارچ کو ہوا۔ اس حملے کا ذمہ دار ایک ڈاکٹر تھا جو تقریباً ایک سال سے بے روزگار تھا۔ جب ژینگ منگ شینگ نامی اس ڈاکٹر سے پوچھا گیا کہ اس نے معصوم بچوں کے کنڈرگارٹن پر حملہ کیوں کیا، تو اس نے کہا کہ یہ حملہ اس نے اس لئے نہیں کیا تھا کہ اسے بچوں سے نفرت تھی بلکہ اس حملے کی وجہ یہ تھی کہ ’’بچے معصوم ہوتے ہیں۔ اسی لئے انہیں قتل کرنے سے اسے مطلوبہ توجہ حاصل ہو سکے گی۔‘‘ تیز تر عدالتی کارروائی کے نتیجے میں اسے ایک ماہ بعد ہی سزائے موت سنا دی گئی۔

جس دن اس ڈاکٹر کو سنائی گئی سزا پر عمل ہوا، اسی دن ایک اور چینی صوبے میں کئے گئے اسی طرح کے ایک حملے میں قریب سولہ بچے زخمی ہو گئے۔ کچھ ہی دنوں بعد اس طرح کے دو مزید حملوں کی اطلاعات بھی ملیں۔

اس سلسلے کا تازہ ترین حملہ گزشتہ اتوار کے روز کیا گیا۔ ایک بیس سالہ نوجوان نے قصابوں کے زیر استعمال آنے والی ایک چھوٹی کلہاڑی سے چھ عورتوں کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لی۔

Kindertag in China, Beijing

ان حملوں میں بچوں کا بھی نشانہ بنایا گیا

خونریز تشدد کے واقعات کے اس تسلسل نے چینی عوام کو ایک کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے اور وہ اس طرح کے سفاکانہ حملوں کی وجوہات تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جیانگ سو یونیورسٹی سے وابستہ عمرانیات کے پروفیسر ہی وین جیونگ کے خیال میں ان تمام واقعات کو علٰیحدہ علٰیحدہ پرکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا: ’’تشدد کے یہ واقعات ہمیں اس معاملے کی نزاکت کا احساس دلاتے ہیں۔ ہماری معاشرت اور اقتصادیات بہت تیزی سے بدل رہی ہیں اور اس بدلتی صورتحال میں ہم امن برقرار نہیں رکھ سکتے۔ اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی مؤثر حکمت عملی بھی نہیں ہے۔ ان میں سے کئی حملے ایسے ہیں جو معاشرتی ناہمواری کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ کچھ واقعات ایسے بھی ہیں، جن میں حملہ آوروں نے احساس دلایا ہے کہ حکومتی سطح پر ان کے مفادات کا خیال نہیں رکھا جا رہا۔ چند حملہ آوروں کے بارے میں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ نفیساتی طور پران کے رویوں میں خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ تاہم اس سلسلے میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوئی کہ ان کے مسائل کو بھی حل کرنے کی کوشش کی جائے۔‘‘

China verstärkt Sicherheit an Schulen und Kindergärten

بچوں پر حملوں نے عوام کو پریشان کر دیا ہے

ڈاکٹر جی سونگ ایک ماہر نفیسات ہیں۔ اس خاتون نے اپنی ڈگری جرمنی سے حاصل کی ہے۔ وہ اس وقت یونیورسٹی آف فرائی برگ کے شعبہ نفسیات سے وابستہ ہیں۔ وہ چینی ڈاکٹروں کی تربیت کا کام کرتی ہیں۔ چین میں ہونے والے حالیہ خونریز واقعات کے تناظر میں Jie Song کہتی ہیں کہ اگرچہ چین میں لوگوں کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ کسی نفیساتی کلینک میں جا سکتے ہیں، تاہم اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا: ’’میرے خیال میں چین میں ایسے واقعات پہلے بھی رونما ہوتے رہے ہیں لیکن میڈیا نے ان کی کوریج کبھی نہیں کی۔ چینی ذرائع ابلاغ پہلے اتنے بہتر نہیں تھے جتنے وہ آج ہو چکے ہیں۔ اب تمام واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔ اب ہمیں یہ بات کھل کر معلوم ہو چکی ہے کہ وہاں کچھ ہو رہا ہے۔‘‘

چینی عوام حکومت سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ اس طرح کے بے رحمانہ واقعات کی روک تھام کے لئے کیا طریقہ ہائے کار اختیار کئے جا رہے ہیں۔ کچھ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے پر تشدد واقعات کی میڈیا کوریج نہیں ہونی چاہئے جبکہ ڈاکٹر Song کے مطابق حکام کو چاہئے کہ وہ اپنی طرف سے نگرانی کے عمل کو مزید سخت بنائیں اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بھی بنائیں کہ عام شہری اپنی نفیساتی الجھنوں اور ذہنی بیماریوں کے بارے میں ان کے بلاتاخیر حل کے لئے کھل کر بات کریں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM