1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں عوام کے لئے مذہب بطور افیون ؟

جمعرات 13 اپریل سے مشرقی چین کے شہر Hangzhou میں بُدھ مَت کے پیروکاروں کا عالمی اجتماع "World Buddhist Forum" کے نام سے شروع ہوا ہے۔ گذشتہ پانچ عشروں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا بین الاقوامی مذہبی اجتماع ہے۔ تو کیا چینی کمیونسٹوں نے معاشرے کو استحکام فراہم کرنے والے عنصر کے طور پر مذہب کے کردار کو جان لیا ہے؟ ڈوئچے وَیلے کے چینی شعبے کے سربراہ Matthias von Hein کا تبصرہ۔

default

ابھی یہ چیز لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئی کہ چین میں ساٹھ کے عشرے کے ثقافتی انقلاب کے دوران بڑی تعداد میں عبادت خانے تباہ و برباد کر دئے گئے تھے اور تمام مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد کی تذلیل بھی کی گئی اور اُنہیں زدو کوب بھی کیا گیا۔ ایسے میں یقیناً یہ ایک اچھا قدم ہے کہ چین میں پانچ عشروں کے بعد پہلی مرتبہ ایک بین الاقوامی مذہبی کانگریس منعقد کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن مشرقی چینی شہر ہانگ ژُو میں ورلڈ بدھسٹ فورم کے انعقاد کو دیکھتے ہوئے ممکن نہیں ہے کہ چینی قیادت کے عزائم کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔

یہ فورم ایک ایسی کمیونسٹ پارٹی کی کڑی نگرانی میں منعقد ہو رہا ہے ، جو آج بھی خود کو واضح طور پر لادین قرار دیتی ہے اور ایک باقاعدہ مہم کے ذریعے پارٹی کے 70 ملین ارکان کو نظریاتی طور پر پختہ بنا رہی ہے ، یعنی پارٹی ارکان کو کمیونسٹ دستاویزات کا مطالعہ کرنا پڑتا ہے ، جس کے بعد باقاعدہ امتحان بھی ہوتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ پارٹی ارکان پر یہ بھی لازم ہوتا ہے کہ وہ ہر طرح کے مذہب سے خود کو دُور کر لیں۔

ایسے میں سول پیدا ہوتا ہے کہ پھر آخر کیوں چینی قیادت ملک میں 1000 سے زیادہ راہبوں اور بُدھ مَت کے ماہرین کو ایک بین الاقوامی اجتماع منعقد کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ ایک تو اِس اجتماع کے انعقاد کی تاریخ قابلِ توجہ ہے۔ یہ اجتماع مسیحی تہوار ایسٹر کے موقع پر یعنی چینی سربراہِ مملکت Hu Jintao کے دَورہ ِ امریکہ سے کچھ ہی پہلے منعقد کیا جا رہا ہے۔ زیادہ مذہبی رواداری ایک ایسی چیز ہے ، جسے امریکہ میں یقینا قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

اِس اجتماع کا عنوان بھی قابلِ توجہ ہے کہ آپس میں ہم آہنگ دُنیا ایک ہم آہنگ اور مربوط شعور سے شروع ہوتی ہے۔ یہ عنوان یاد دلاتا ہے ، اُس ہم آہنگ معاشرے کی ، جس کی تشکیل کا ذکر Hu Jintao نے سن 2003ء میں برسرِ اقتدار آتے وقت کیا تھا۔ لیکن گذشتہ سال پر نظر ڈالی جائے تو چین میں سرکاری طور پر87 ہزار سے زیادہ پر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے ، یعنی ہم آہنگی کا کوئی نام و نشان نظر نہیں آتا۔

ہو بھی کیسے کہ امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے ، بدعنوانی زوروں پر ہے اور مادیت پرستی کو اتناعروج حاصل ہو رہا ہے کہ سوائے پیسے کے اور کسی شَے کی کوئی قدر باقی نہیں رہی۔ پرانے کمیونسٹ نظریات بھی وقت کے ساتھ ساتھ فرسودہ ہو چکے ہیں۔ چین میں اخلاقی معیارات بھی قصہ ءماضی بن چکے ہیں اور یوں وہاں ایک فکری خلاءنظر آ رہا ہے۔ ایسے میں کمیونسٹ پارٹی کی نظر میں مذہب کی اہمیت اُجاگر ہو رہی ہے۔

بدھ مذہبی کانگریس کے انعقاد سے کچھ پہلے مذہبی امور کے سرکاری محکمے کا یہ بیان بھی قابلِ توجہ ہے کہ بدھ مَت چینی معاشرے میں پڑنے والے شگافوں کا مداوا کر سکتا ہے اور اِس کے ماننے والوں کو چینی سماج میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں سے عہدہ برآ ہونے میں مدد دے سکتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کمیونسٹ پارٹی لینن اور کارل مارکس کی زبان میں اب درحقیقت مذہب کو ناجائز طور پر اپنے عوام کیلئے افیون کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔