1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

چین میں سگریٹ نوشی کے باعث اموات میں ’ڈرامائی اضافہ‘

صحت عامہ کے ماہرین نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہےکہ بیجنگ حکومت چین بھر میں سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی میں واضح طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے اور وہاں سن 2030ء تک تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاکتیں تین گنا ہو سکتی ہے۔

default

ماہرین کے مطابق چین میں تین سو ملین افراد سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہیں اور اگر سگریٹ نوشی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے، تو چین میں تمباکو نوشی کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں میں ’ڈرامائی اضافہ‘ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

BdT Spanien Schluß mit Rauchen

دیگر ممالک نے سگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے ہیں

چینی اور غیرملکی ماہرین کی ایک مشترکہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ چین میں تمباکو کے استعمال سے جڑی بیماریوں کے باعث سن 2030ء میں مجموعی طور پر 3.5 ملین افراد موت کے منہ میں جا سکتے ہیں۔ سن 2005ء میں اس ملک میں تمباکو نوشی کے باعث بیماریوں کے نتیجے میں 1.2 ملین انسان ہلاک ہوئے تھے۔

’’تمباکو پر گرفت اور چین کا مستقبل ‘‘ نامی یہ طبی رپورٹ گزشتہ روز جاری کی گئی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین یقینی طور پر رواں برس نو جنوری سے ملک بھر کے انڈور بارز میں سگریٹ نوشی پر پابندی کی ڈیڈلائن کو پورا نہیں کر پائے گا۔

Deutschland Rauchverbot Bahnhof Hamburg

تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے اعتبار سے چین خاصا پیچھے چلا گیا ہے

تمباکو کی پیداوار اور کھپت کے لحاظ سے چین دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔ اس رپورٹ میں طبی ماہرین نے بیجنگ حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ عالمی ادارہء صحت کے انسداد تمباکوکنوینشن FCTC کے مطابق چین میں تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات کرے۔

رپورٹ کے مطابق تمباکو پر قدغن اور FCTC کی شرائط کی انجام دہی کے لحاظ سے چین دنیا کے دیگر ممالک سے بہت تیزی سے پیچھے رہ گیا ہے۔ اس رپورٹ کو چین کے سینٹر برائے انسداد امراض اور تدابیر کا تعاون حاصل تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین میں فی الحال انڈور عوامی جگہوں پر تمباکونوشی پر پابندی کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دیتے اور عموماﹰ سگریٹ نوش افراد ریستورانوں اور دفتری عمارات میں بغیر کسی ہچکچاہٹ یا تامل کے سگریٹ جلاتے دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس