1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں زیرتعمیر پاور پلانٹ منہدم، ساٹھ سے زائد ہلاک

چین کے مشرقی حصے میں ایک زیرتعمیر پلانٹ کا پلیٹ فارم گرنے سے درجنوں ہلاکتوں کا بتایا گیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران چین میں انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے یہ ایک بڑا ہلاکت خیز واقعہ ہے۔

چینی سرکاری میڈیا کے مطابق وسطی صوبے ژیانگشی کے مقام فینگ چینگ میں زیر تعمیر پاور پلانٹ کا ایک وسیع اور بڑا پلیٹ فارم گرنے سے کم از کم ستر مزدور متاثر ہوئے ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے نے ہلاکتوں کی تعداد 67 بتائی ہے۔ ستر میں سے ایک شخص کے لاپتہ ہونے کا بتایا گیا ہے جبکہ دو شدید زخمی ہیں۔

پاور پلانٹ کا گرنے والا پلیٹ فارم کنکریٹ کا بنا ہوا تھا اور اُس پر کئی قسم کے پائپ بھی نصب کیے جا چکے تھے۔ منہدم ہونے والا مقام پاور پلانٹ کے لیے کولنگ مرکز کے طور پر تعمیر کیا جا رہا تھا۔ متاثرہ علاقے میں ریسکیو آپریشن میں پانچ سو افراد ملبہ ہٹانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں بتیس فائر انجن اور 212 فوجی اہلکار ہیں۔ یہ حادثہ آج جمعرات، چوبیس نومبر کی صبح پیش آیا۔

فینگ چینگ کے مقام پر پہلے سے موجود پاور پلانٹ میں توسیع کر کے ایک ہزار میگا واٹ کے بجلی پیدا کرنے والے دو پلانٹوں کی تعمیر کی جا رہی ہے۔ یہ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والا مرکز ہے۔ اس کی تعمیر سن 2018میں مکمل ہونی ہے۔ یہ پراجیکٹ ایک بلین ڈالر سے زائد کا بتایا گیا ہے۔

China Einsturz einer Bauplattform im Kraftwerk Fengcheng (picture-alliance/ZumaPress/Xinhua/Wan Xiang)

جس پلانٹ پر حادثہ رونما ہوا ہے، وہ وسطی چینی صوبے ژیانگشی میں واقع ہے

حادثے کی خبر عام ہونے کے بعد گینِنگ فینگ چینگ پاور پلانٹ کے ملکیتی ادارے کی حصص میں کمی واقع ہو گئی ہے۔ اس باعث ملکیتی ادارے کو لاکھوں ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

چین میں صنعتی سیفٹی ضوابط میں خامیوں کے حوالے سے سماجی اور مقامی کارکنوں کا واویلا سامنے آتا رہتا ہے۔ رواں برس ڑیانگ شی صوبے کے ہمسائے میں واقع صوبے ہوبئی میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے ایک پلانٹ میں رونما ہونے والے حادثے میں اکیس انسانی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔

اسی سال کے دوران مشرقی چین میں کیمیاوی مواد کے لیک ہونے کے واقعے میں 130 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا تھا۔ اسی برس ساحلی صوبے ژیانگ سُو میں ایک کیمیکل پلانٹ میں لگنے والی خوفناک آگ کو سولہ گھنٹوں کی مشقت سے پانچ سو فائر فائٹرز نے قابو کیا تھا۔