1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں زلزلہ: ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ ہزار سے زائد

میانمار میں سمندری طوفان سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے تو دوسری طرف میانمار کے ہمسایہ ملک چین کے جنوبی مغربی صوبے سیچوان میں شدید زلزے سے قر یبا بارہ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

default

چینی حکام نے ایک بہت بڑا امدادی آپریشن شروع کر دیاہے

چینی حکومت نے ملبے تلے لوگوں کو نکالے کے لئے ایک بہت بڑے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ دریں اثنا چینی حکومت نے بین الاقوامی امداد پر بھی حامی بھر دی ہے ۔

سات اعشاریہ نو کی شدت سے آنے والے زلزلے نے چین کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ اگرچہ چینی امدادی ٹیمیں اور فوجی دستے متاثرہ علاقوں تک پہنچنے میں کچھ حد تک کامیاب ہو گئے ہیں تاہم خراب موسم ، بارش اور ضمنی جھٹکوں کے نتیجے میں ملبے تلے دبے ہزاروں لوگوں تک پہنچنے اور انہیں باحفاظت نکالنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔

Verschüttete Studenten nach Erdbeben in Juyuan China

دویجایناگ میں واقع مڈل سکول جہاں نو سو بچوں کا ملبے تلے دبنے کا خدشہ ہے

چینی وزیر اعظم نےامدادی ٹیموں سے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں کی سڑکوں اورراستوں پر پڑے ملبے کو ہتایا جائے تاکہ امدادی کاموں میں خلل نہ پڑے ۔

حکمران کیمونسٹ پارٹی کے راہنماوں نے کہا ہے کہ اس زلزلے سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لئے باقاعدہ ایک حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ متاثرہ علاقوں میں سماجی عدم استحام پیدا نہ ہو۔

عالمی برادری نے چینی حکومت کے ساتھ یک جہتی کا اعلان کرتے ہوئے امداد کی دعوت بھی دی ہے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے چین میں ہولناک زلزلے سےمتاثرہ لوگوں کی تباہ حالی پران سے ہمدری کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی نہیں جانتا کہ اس تباہی سےکتنا نقصان ہوا ہے۔ انہوں نےکہا کہ وہ اور اقوام متحدہ اس کڑے اور مشکل وقت میں چینی عوام کےساتھ ہیں۔

چین نے اقوام متحدہ کی طرف سے امداد کی دعوت قبول کر لی ہے ۔ دوسری طرف جاپان نے بھی ہنگامی طور پر پانچ ملین ڈالز کی امدادی رقم چینی حکومت تک پہنچا دی ہے۔ اس کے علاوہ جاپان نے ہمسایہ ملک کو چار اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر کا امدادی سامان دینے کا وعدہ بھی کیا ہے۔

Erdbeben in China, Soldaten im Einsatz

امدادی کاموں میں مصروف فوجی دستے

جلا وطن تبتی روحانی رہنما دلائی لاما نے اپنے ایک بیان میں کہا ہےکہ وہ اس زلزلے میں ہلاک اور متاثر ہونے والوں کے لئے نہ صرف ہمدردیاں رکھتے ہیں بلکہ ان کی بہتری کے لئے دعاگو بھی ہیں۔

دریں اثنا چینی سٹاک ایکسچینج پر زلزلےکے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور منگل کے دن یہاں شدید مندی دکھنے میں آئی ، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تباہی سے ملکی معشیت کو کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں ہے۔

آہ و بقا ،، امداد ی وعدوں ، دعاوں اور امدادی کاموں کے بیچ چین میں زندگی بھی رواں ہے اور اولپکس کمیٹی نے کہا کہ چین میں اولپمیائی مشعل کا سفر جاری رہے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں اب سادگی برتی جائے گی۔ کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ بدھ کے دن ملک کے مشرق صوبے میں مشعل کا سفرآغاز کرنے سے پہلے ایک منٹ کی خاموشی کی جائے اور زلزلہ زدگان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا جائے گا۔

سن انیس سو چہتر کے بعد چین میں یہ شدید ترین زلزلہ آیا ہے۔ شمال مغربی صوبے میں تنگ شان میں آنے والے زلزلے میں تین لاکھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔