1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

چین میں دوسرے طیارہ بردار بحری بیڑے کی تیاری

کئی ماہ سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد چین نے اپنی تاریخ کا دوسرا بڑا طیارہ بردار بحری بیڑا بنانے کی تصدیق کر دی ہے۔ اس کا مقصد عالمی طاقتوں اور خاص طور پر امریکا کے مقابلے میں چینی سمندری طاقت میں اضافہ کرنا ہے۔

چین نے کہا ہے کہ وہ اپنا دوسرا طیارہ بردار بحری بیڑا تعمیر کر رہا ہے مگر اس مرتبہ یہ مکمل طور پر ملکی ٹیکنالوجی سے تیار کیا جا رہا ہے۔ چینی وزارت دفاع کے ترجمان کرنل ینگ یُوجُن نے ایک نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ پچاس ہزار ٹن وزنی یہ بحری جہاز ملک کی شمالی پورٹ ڈالیان پر تعمیر کیا جا رہا ہے اور اس بیڑے کو چین میں ہی ڈیزائن کیا گیا ہے۔ چین کے پاس پہلے بھی ایک طیارہ بردار بحری بیڑا موجود ہے جسے انیس سو اٹھانوے میں یوکرائن سے خرید کر کے چین کے اندر ہی جدید بنایا گیا تھا۔

فوجی تجزیہ کاروں اور چینی میڈیا نے کئی مہینے پہلے ہی ایسی سیٹیلائٹ تصاویر شائع کر دی تھیں، جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ چین نئے طیارہ بردار بحری بیڑے کی تیاری میں مصروف ہے تاہم ابھی تک حکومتی سطح پر اس عمل کی تصدیق نہیں کی گئی تھی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا تھا، ’’چین کے ساحل طویل ہیں اور وسیع سمندری علاقے ہمارے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔ اپنی سمندری خودمختاری، مفادات اور ملکی حقوق کی حفاظت چین کی مسلح افواج کی ذمہ داری ہے۔‘‘

اس نئے بحری بیڑے کا ڈیزائن پہلے بحری بیڑے کو بناتے وقت حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق اس بحری بیڑے پر جے فیفٹین فائٹر طیارے اتر سکیں اور پرواز کر سکیں گے۔ چینی کے ’طیارہ بردار بحری بیڑوں کے پروگرام‘ کے بارے میں بہت ہی کم معلومات منظر عام پر آ سکی ہیں کیوں کہ چین ان معلومات کو ملکی راز قرار دیتا ہے۔ چینی حکام کی طرف سے یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ بیڑے کو کب باقاعدہ طور پر چینی بحریہ کے حوالے کیا جائے گا۔

شنگھائی میں بحری امور کے ایک ماہر کا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا، ’’امریکا کے پاس ایسے متعدد بحری بیڑے ہیں، جو بحیرہ جنوبی چین میں ہر طرف نقل و حرکت جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ ہمارے لیے ایک مسئلہ ہے۔ اس دوسرے بحری بیڑے سے ہم پر دباؤ کم ہو گا۔‘‘

امریکا کے علاوہ اس وقت کئی ایشیائی ریاستوں کی نظریں بھی صرف چین پر لگی ہیں، جو مشرقی ایشیا کے ساحلوں کے ساتھ ساتھ وسیع تر علاقے پر اپنی ملکیت کے دعوے کر رہا ہے۔ دوسری جانب کئی ایشیائی ممالک بھی اپنے دفاع پر اس لیے بہت زیادہ رقوم خرچ کرنے لگے ہیں کہ ان کے چین کے ساتھ مختلف جزیروں اور سمندری علاقوں کی ملکیت کے کثیرالجہتی تنازعے پائے جاتے ہیں۔ چین سے اختلافات رکھنے والے متعدد ممالک نے امریکا کے ساتھ دفاعی معاہدے کر رکھے ہیں۔