1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

چین میں دنیا کی سب سے بڑی مردم و خانہ شماری

عوامی جمہوریہء چین میں مردم و خانہ شماری کے دنیا کے سب سے بڑے عمل کا آغاز ہو گیا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں 1.4 ارب انسان آباد ہیں۔

default

بیجنگ شہر میں بھیڑ کا ایک عمومی منظر

موجودہ آبادی سے متعلق لگائے گئے محتاط اندازوں کے مطابق گزشتہ دس سال کے دوران چین کی مجموعی آبادی میں مزید کئی کروڑ نفوس کا اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق پیر سے شروع ہونے والی مردم شماری پر ایک ارب امریکی ڈالر سے زائد کی لاگت آئے گی۔ یکم نومبر سے شروع ہونے والا یہ عمل آئندہ چار ہفتوں تک جاری رہے گا۔

اس دوران چین کے طول وعرض میں 400 ملین سے زائد گھروں کے دروازے کھٹکھٹائے جائیں گے۔ تقریباً 6.5 ملین حکومتی اہلکار و رضا کار اِس کام کو سرانجام دینے میں مصروف رہیں گے۔ ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال اور گھر بار سے متعلق تمام ضروری معلومات حکام کو فراہم کرے تاکہ تیزی سے معاشی ترقی کی راہ پر گامزن یہ ملک مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے یہ تفصیلات کام میں لا سکے۔

China Peking National People's Congress NPC Flash-Galerie

بیجنگ کے عظیم ہال میں قومی عوامی کانگریس کا ایک منظر

مردم شماری کے پہلے مرحلے میں ان معلومات کا حصول ممکن بنایا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں ان کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔

اس منصوبے کی اہمیت اپنی جگہ مگر بعض حکام اور ماہرین ایسے خدشات کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ شاید لوگ کچھ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے خوف محسوس کریں گے۔ مثال کے طور پر اندرون ملک مہاجرین اور وہ لوگ جنہوں نے چین میں نافذ العمل خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق ’ایک بچے‘ کی پالیسی پر عمل نہیں کیا۔

اسی خدشے کے پیش نظر پہلی بار خانہ شماری کے اس طریقے کو نظر انداز کیا گیا ہے، جس کے تحت کوئی ایک شخص ایک ہی علاقے میں رہنے کا پابند تھا۔ چین میں اب بھی شہروں میں رہائش پذیر بہت سے شہریوں کے پتے سرکاری دستاویزات میں ان کے دیہی گھروں کے ہیں۔ مردم اور خانہ شماری کے سوالنامے میں بنیادی طور پر شہریوں سے ان کے نام، جنس، لسانیت، تعلیم اور رہائش کے متعلق پوچھا جائے گا۔

Yangshan Tiefwasserhafen Shanghai China

چین کا شمار ابھرتی عالمی اقتصادی طاقتوں میں ہوتا ہے

شہریوں کو درپیش خدشات کا ادراک حکام کو بہت اچھے طریقے سے ہے، جو انہیں دور کرنے کی بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ قومی ادارہء شماریات کے ڈائریکٹر ما جیان تانگ نے واضح کیا ہے کہ ان معلومات کو کسی شہری کو سزا دینے کے لئے استعمال میں نہیں لایا جائے گا اور مردم اور خانہ شماری کرنے والے سرکاری اہلکار ایسی معلومات کو خفیہ رکھنے کے پابند ہیں۔ ماجیان تانگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ معلومات محض تحقیقی مقاصد کے لئے استعمال ہوں گی اور اس کے بعد انہیں ضائع کر دیا جائے گا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس